مساعدات سعودية في غزة

غزہ میں 83 ہزار غذائی پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں: شاہ سلمان مرکز

سعودی عرب نے پٹی میں انسانی امداد سے لادے ہوئے تقریباً 84 امدادی طیارے اور 8 بحری جہاز روانہ کیے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے امدادی سامان کے ہزاروں ٹن فضائی اور بحری پل کے ذریعے اپنے انسانی ہمدردی کے ردعمل کو مضبوط بنانا جاری رکھا۔

ساتھ ہی پٹی میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی اور امدادی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری میں ہنگامی انسانی منصوبوں کی مالی معاونت بھی کی۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز رلیف اینڈ ہیومینیٹیرین ایڈ سینٹر نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں تقسیم کیے جانے والے غذائی پیکٹوں کی کل تعداد تقریباً 83,195 تک پہنچ گئی ہے ۔ اس سے رواں ماہ کی 14 تاریخ تک ہدف بنائے گئے خاندانوں کے 499,170 افراد مستفید ہوئے ہیں۔

اسی تناظر میں سینٹر نے واضح کیا کہ ضرورت مندوں کو فراہم کیے جانے والے گرم کھانوں کی کل تعداد تقریباً 25 لاکھ 95 ہزار 548 تک پہنچ گئی ہے۔

پٹی کے اندر متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سینٹر کے نافذ کردہ فوڈ سکیورٹی پروگراموں کے تحت یہ کھانے فراہم کیے گئے ہیں۔ فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے غزہ کی پٹی تک پہنچائی جانے والی امداد کا کل وزن 7 لاکھ 75 ہزار 8 ٹن پہنچ گیا ہے۔

مسلسل امدادی پل

سات جون 2026 تک غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے ہنگامی انسانی اور امدادی مدد کے اعداد و شمار کے مطابق مملکت نے متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیے مختص فضائی اور بحری راستوں کے تحت انسانی امداد سے لادے ہوئے تقریباً 84 امدادی طیارے اور 8 بحری جہاز روانہ کیے۔

ان کھیپوں میں غذائی، طبی اور پناہ گاہ کا سامان شامل تھا۔

مخصوص امداد

اسی تناظر میں غزہ کی پٹی کے لیے سعودی امداد میں صحت کے شعبے کی مدد کے لیے 20 ایمبولینسیں، امداد کی فضائی ڈراپنگ کے لیے مخصوص 500 یونٹس اور افطار کے لیے 39,200 تیار کھانے شامل تھے۔

بین الاقوامی شراکت داریاں

شاہ سلمان رلیف سینٹر نے غزہ کی پٹی میں ہنگامی امدادی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے معاہدوں کا ایک گروپ تیار کیا جس میں فوڈ سکیورٹی، پانی، صحت، تحفظ، غذائی قلت، ماحولیاتی صفائی، ہنگامی ردعمل اور لاجسٹک سپورٹ کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان معاہدوں میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ( انروا) کو 55 ملین ڈالر، عالمی ادارہ صحت کو 10 ملین ڈالر اور بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کو 10 ملین ڈالر کی فنانسنگ شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ فوڈ پروگرام کے لیے 5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔

ان میں اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے لیے 4 ملین ڈالر، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے لیے 3.6 ملین ڈالر، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے لیے 1.5 ملین ڈالر اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر ) کے لیے 750 ہزار ڈالر اور فلسطینی ہلالِ احمر کے لیے 500 ہزار ڈالر بھی شامل تھے۔

کثیر جہتی مدد

یہ اعداد و شمار دو متوازی راستوں کے ذریعے غزہ کی پٹی کو فراہم کی جانے والی سعودی امداد کے حجم کی عکاسی کرتے ہیں جن میں سے پہلا راستہ مستفید کنندگان تک امدادی، غذائی اور طبی سامان براہ راست پہنچانے پر مشتمل ہے۔

دوسرا راستہ بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے ہنگامی انسانی مداخلت کے پروگراموں کی مالی معاونت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ پٹی کی بڑھتے ہوئے انسانی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور متاثرین کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں