پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے نتیجے میں اگلے ساٹھ دنوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو کوئی فیس نہیں دینا ہو گی۔ اسحاق ڈار نے اس امر کا ظہار اتوار کے روز 'العربیہ' کے ساتھ بات چیت میں کیا ہے۔
پاکستان نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ مفاہمتی یادداشت پر امریکی و ایرانی صدور کے دستخطوں کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی دستخط کیے ہیں۔
اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والوں پر ٹرانزٹ یا سروسز کے کھاتے میں اگلے ساٹھ دنوں میں کوئی فیس نہیں ہوگی۔ ان نے اس بارے میں تین تکنیکی ٹیموں کے درمیان جاری بات چیت کا بھی حوالہ دیا جو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا حصہ ہیں۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کہا کمیٹیوں کی سطح پر بات چیت چل رہی ہے۔ اسی طرح ایران کے منجمد کیے گئے فنڈز کے ساتھ ساتھ لبنان میں جاری صورت حال پر بھی یہ کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔
وزیر خارجہ پاکستان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں۔ جب مفاہمتی یادداشت کوایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دینے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور امریکہ وایران کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا دور شروع کرنے کے لیے ٹیمیں پہنچ چکی ہیں۔