امریکی خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے دوران سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی تقریر سے - ایسوسی ایٹڈ پریس

خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کی قدر کرتے ہیں، ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے خواہاں ہیں : روبیو

اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں آج جمعرات کے روز خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا وزارتی اجلاس شروع ہوا۔ روبیو خطے کے ممالک کے دورے کے سلسلے میں بحرین پہنچے ہیں۔

اپنے خلیجی ہم منصبوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "آبنائے ہرمز میں ٹیکس (فیس) عائد کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے پوری دنیا میں بد امنی پھیلے گی۔"

روبیو نے مزید کہا "آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ ہم ایران کے ساتھ ایک اچھا اور حقیقی معاہدہ چاہتے ہیں لیکن ہر قیمت پر نہیں"۔ انہوں نے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایک ایسے پائیدار امن کے لیے فراخی رکھتا ہے جو امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی سکیورٹی اور خوشحالی کو نقصان نہ پہنچائے۔

روبیو نے کہا "ہم خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کی قدر کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک اور امریکہ کا یہ اجلاس اہم ہے، ایسی اقوام کے درمیان جنہوں نے دہائیوں تک مل کر کام کیا ہے"۔

روبیو نے زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم یہ قبول نہیں کریں گے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو۔" انہوں نے یقین دلایا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت کوئی بھی فیصلہ اتحادیوں کے مفادات کو مد نظر رکھے گا۔"

انہوں نے کہا "اگر ایران اپنی نظریاتی برآمد کو روک کر اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنا چاہے تو ہم اس کی مدد کے لیے تیار ہیں۔"

یہ اجلاس امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد کی صورتحال پر غور کر رہا ہے۔ بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی سکیورٹی و استحکام کو فروغ دینے کے لیے ان کی مسلسل کوششیں بھی شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ روبیو بحرین میں اپنے خلیجی دورے کا اختتام کر رہے ہیں۔ ان کے دورے میں متحدہ عرب امارات اور کویت بھی شامل تھے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے بدھ کے روز زور دیا تھا کہ امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں کو ایران کے ساتھ ہونے والے "ان مذاکرات کے حوالے سے کیے جانے والے ہر فیصلے میں شامل رکھے گا۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں