العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار صحافی محمد عیضہ
یمن میں العربیہ کے نامہ نگار کے قتل کا معاملہ، سکیورٹی کمیٹی قائم کرنے کا حکم
یمن کے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے مکلا میں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار صحافی محمد عیضہ کے قتل کی وجوہات اور حالات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔
محمد عیضہ کی گاڑی کومشرقی یمن کے صوبہ حضرموت کے شہر مکلا میں بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو ئی۔
یہ تحقیقاتی کمیٹی وزارتِ داخلہ، اسٹیٹ سکیورٹی اور فوجی انٹیلی جنس کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی، اسے حضرموت کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے اور ذمہ داران کی شناخت کی جا سکے۔
العلیمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست اس مجرمانہ اور دہشت گردی پر مبنی واقعے میں ملوث عناصر اور ان کے پیچھے موجود قوتوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ العربیہ نیٹ ورک کے صحافی محمد عیضہ یمن سے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کے ساتھ سچائی کو رپورٹ کر رہے تھے۔
اسی طرح یمن کے وزیر اعظم شائع الزندانی اور حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی نے بھی متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ تحقیقات کو فوری مکمل کیا جائے، تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ملوث افراد کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دو مشتبہ افراد گرفتار، تیسرے کی تلاش جاری
اسی سلسلے میں حضرموت سے العربیہ/الحدث کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی اداروں نے محمد عیضہ کے قتل کے الزام میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز ایک تیسرے مشتبہ شخص کی تلاش میں بھی مصروف ہیں، جس کا تعلق اس واقعے سے بتایا جا رہا ہے۔
اس دوران واقعے کی وجوہات اور تمام پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، تاکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
غدارانہ جرم
یمن کے صحافیوں کی تنظیم نے محمد عیضہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک غدارانہ دہشت گردانہ جرم قرار دیا ہے، جس کا مقصد صحافت اور میڈیا کو نشانہ بنانا ہے۔
تنظیم نے واقعے کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
صحافتی تنظیم کے مطابق محمد عیضہ کو چند ہفتے قبل دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، جیسا کہ سکیورٹی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ وہ اس سے قبل صنعا سے ہجرت کر چکے تھے کیونکہ انہیں اپنے صحافتی کام کی وجہ سے دباؤ اور مشکلات کا سامنا تھا۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ یمن میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اس رجحان کے خاتمے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور میڈیا ورکرز کے خلاف جرائم میں سزا سے بچ نکلنے کے رجحان کو ختم کیا جائے۔
واضح رہے کہ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار محمد عیضہ کو بدھ کی شام اس وقت قتل کر دیا گیا جب مکلا شہر میں شارع الستین کے قریب ان کی گاڑی کو ایک بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اب تک کسی بھی گروہ یا فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔