الزميل الراحل محمد عيضة
یمن میں "العربیہ" کے نمائندے کا قتل ، امریکی سفارت خانے کی جانب سے مذمت
یمن میں امریکی سفارت خانے نے جمعرات کو صوبہ حضرموت کے مشرقی شہر مکلا میں العریبہ / الحدث چینل کے نمائندے محمد عیضہ کی گاڑی کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ان کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔
امریکی سفارت خانے نے مجرموں کے احتساب کی ضرورت پر زور دیا اور نمائندے کے قتل کی تحقیقات کے لیے یمنی حکام کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔
مقتول نمائندہ بدھ کے روز اپنی گاڑی میں اکیلا تھا جب دھماکے سے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل اس نے اپنے اہل خانہ کو گھر پہنچایا تھا اور وہاں سے نکلا ہی تھا کہ گاڑی میں نصب بم پھٹ گیا، جس سے اس کی جان چلی گئی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
میت کو صوبہ حضرموت کے شہر مکلا میں ابن سینا ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب العریبہ/الحدث کے نمائندے ردفان الدبیس نے بتایا کہ مکلا سکیورٹی انتظامیہ نے محمد عیضہ کو ایک ماہ قبل ان کی زندگی کو لاحق خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکلا سکیورٹی انتظامیہ نے عیضہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیں۔ عیضہ کو گذشتہ عرصے کے دوران مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، لیکن انہوں نے اپنی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے سے قبل اسے کافی سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔
نمائندے نے یہ بھی واضح کیا کہ دھماکہ شدید تھا، جس کی وجہ سے مکلا کے وسط میں شارع ستین پر پاکستانی اسکول کے قریب گاڑی جل کر راکھ ہو گئی۔
ادھر یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے العریبہ اور الحدث کے نمائندے محمد عیضہ کے قتل کے حالات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ اعلیٰ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
کمیٹی میں وزارت داخلہ، ریاستی سکیورٹی ایجنسی اور ملٹری انٹیلیجنس کے نمائندے شامل ہیں، جو صوبہ حضرموت کی مقامی اتھارٹی کی قیادت کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ساتھ رابطہ کاری کریں گے۔ اس کا مقصد واقعے کے حالات کو بے نقاب کرنا اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے۔
یمنی وزیراعظم شائع الزندانی اور حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی نے متعلقہ سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحقیقات جلد مکمل کریں اور ملوث افراد کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری وسائل بروئے کار لائیں۔
یمنی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا میڈیا کے کام کی آزادی پر حملہ ہے اور حملے کے ذمہ داروں کے احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔
یاد رہے کہ عیضہ 2019 سے العربیہ نیٹ ورک کے ساتھ فوٹوگرافر اور تعاون کرنے والے نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے، جہاں انہوں نے ساحل و وادی حضرموت اور صحرا سے لے کر صوبہ المہرہ تک یمن کے مشرقی علاقوں میں اہم سیاسی، ترقیاتی اور سکیورٹی واقعات اور پیش رفت کو کور کیا۔
محمد عیضہ 1986 میں صوبہ تعز کے ضلع شرعب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز صنعا میں یمنی چینل السعیدہ کے ساتھ ٹیلی ویژن فوٹوگرافر کے طور پر کیا، پھر انہوں نے الحرہ چینل کے ساتھ کام کیا۔ وہ ایک بیٹے اور 3 بیٹیوں کے باپ تھے۔
سال 2018 کے آخر میں عیضہ کو صنعا میں مسلح افراد کی طرف سے تعاقب اور گرفتاری کی کوشش کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے گھر پر دھاوا بولا گیا۔ عیضہ کے اہل خانہ کو خوف زدہ کیا گیا اور ان کی املاک لوٹ لی گئیں۔ اس کے بعد وہ صنعا چھوڑ کر عدن منتقل ہو گئے اور بعد میں العربیہ نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنے کے لیے وابستہ ہو گئے اور اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے لیے شہر مکلا میں مقیم ہو گئے۔