آبنائے ہرمز سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)

آبنائے ہرمز امریکہ اور ایران کے درمیان پیچیدہ گتھی، کیا اس کا حل سمندری قانون سے ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے جہازوں کو نشانہ بنانے اور جوابی کارروائیوں کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے ان حملوں کو روکنے پر اتفاق کیا ہے جو مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد خلیج میں نئی کشیدگی کا باعث بنے تھے۔

عہدیدار نے وضاحت کی کہ "مفاہمت کی یادداشت کے تمام شعبوں پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔دونوں فریق فی الحال اپنے حملے روک دیں گے، اور جہاز آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں گے"۔

تہران کا کنٹرول برقرار رکھنے پر اصرار

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران اس تزویراتی آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر بضد ہے، جہاں سے دنیا بھر کی پانچواں حصہ تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔ ایران اس کے "انتظام" کے لیے حتمی مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس انتظام اور عمان کے ساتھ مل کر نیویگیشن کو منظم کرنے کے بدلے "سروس فیس" وصول کر سکتا ہے۔

تاہم معاملہ اب بھی غیریقینی کا شکار ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 18 جون کو دستخط ہونے والی امریکی ایرانی مفاہمت کی یادداشت میں 60 دنوں کی مدت کے دوران آبنائے ہرمزکو بغیر کسی فیس یا پابندی کے کھولنے کا اشارہ دیا گیا تھا۔ اس مدت کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ اور عمان اور خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایران کی جانب سے اس کے ممکنہ انتظام پر بات چیت کی جانی تھی۔

آبنائے ہرمز سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)

اب تک یہ معاملہ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے، کیونکہ تمام خلیجی ممالک جہاز رانی پر کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

اگرچہ ایران اور سلطنت عمان آبنائے ہرمز کے دونوں کناروں پر قابض ہیں، لیکن 1982ء میں منظور کردہ 'اقوام متحدہ کے قانونِ سمندر' کا کنونشن بین الاقوامی نیویگیشن کے لیے استعمال ہونے والی آبنائے (جیسے ہرمز جو خلیج کو دنیا سے جوڑتی ہے) میں "عبوری حقِ گزر" (Transit Passage) کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ کنونشن جس کی توثیق تہران نے نہیں کی ہے واضح کرتا ہے کہ "تمام جہازوں اور طیاروں" کو "عبوری حقِ گزر" حاصل ہے جسے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ نیز یہ کنونشن اس بات پر زور دیتا ہے کہ نیویگیشن اور پرواز کی یہ آزادی "صرف مسلسل اور تیز رفتار گزرنے کے مقصد" کے لیے ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمزکو گذشتہ ہفتے دوبارہ کھولا گیا تھا، اس سے قبل تہران نے 28 فروری کو اس پر شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی جنگ کے بعد سے وہاں نیویگیشن پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید جھٹکا لگا اور توانائی کی سپلائی میں خلل کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

تاہم ایران نے صرف اپنے ساحل کے ساتھ ایک ہی راستے سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی اور خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ "آبنائے ہرمزکا انتظام سنبھالنے کی خصوصی ذمہ داری صرف ایران پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور فریق یا ملک پر۔"

خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق واشنگٹن عمان کے ساحل کے ساتھ جنوبی راستے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران اس بات پر بضد ہے کہ جہاز اس کے زیرِ کنٹرول شمالی راستے سے گزریں، کیونکہ وہ بالآخر اس آبنائے کے استعمال پر فیس عائد کرنا چاہتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں