غزہ میں حماس کے ارکان (آرکائیو - اے ایف پی)

اسرائیلی فوج غزہ میں دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی حامی... اور واشنگٹن مخالف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب غزہ کی پٹی میں دو ریاستی حل کی منصوبہ بندی تعطل کا شکار ہے... اسرائیلی انٹیلی جنس ڈویژن اور سدرن کمانڈ کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس نئی جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق حکام نے امریکی مخالفت کے باوجود فلسطینی پٹی میں دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ حماس ہر ماہ سیکڑوں بارودی سرنگیں اور ٹینک شکن میزائل تیار کر رہی ہے، نئے جنگجو بھرتی کر رہی ہے اور غزہ کی پٹی میں زیر زمین ڈھانچے کو بحال کر رہی ہے۔

اعلیٰ حکام نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر کو خبردار کیا کہ حماس کا عسکری ونگ دوبارہ جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٖحماس 18 سے 22 سال کی عمر کے جنگجو بھرتی کر رہی ہے اور حال ہی میں اس نے اپنی ایلیٹ فورسز کے اہل کاروں کی تربیت کا آغاز کیا ہے۔

تقریباً دو ہفتے قبل قاہرہ میں حماس سمیت فلسطینی دھڑوں اور ثالثوں کے درمیان غزہ کی پٹی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کو نافذ کرنے کے لیے تفصیلی مشاورت اور ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس وقت دھڑوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ دوسرے مرحلے کی طرف جانے سے پہلے اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا مکمل نفاذ ضروری ہے، جس میں پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلا شامل ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کا انخلا اس لائن تک ہونا تھا جسے "یلو لائن" کہا جاتا ہے۔ اس نے اسرائیل کو تباہ شدہ فلسطینی پٹی کے تقریباً 53 فی صد رقبے پر کنٹرول دے دیا تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ ماہ (مئی 2026) کے اواخر میں اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ پر اپنے کنٹرول کو 70 فی صد تک بڑھائے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں