30 جون 2026 کو موناکو میں دھماکے کی جگہ کے قریب پولیس کی گاڑی کھڑی ہے۔ (رائٹرز)

موناکو پارسل بم دھماکے میں یوکرینی اولیگارک زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز موناکو میں ایک پارسل بم دھماکے میں ایک یوکرینی اولیگارک اور دو دیگر افراد زخمی ہو گئے، حکام نے کہا۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس نے انتہائی محفوظ خودمختار ریاست کو ہلا کر رکھ دیا۔

مقامی وقت کے مطابق رات 9:00 بجے فرانس کی سرحد کے ساتھ ایک سڑک پر ایک رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے میں ایک جوڑا اور ایک نوجوان زخمی ہو گئے۔

تفتیش کے ایک قریبی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں سے ایک یوکرینی اولیگارک وادیم یرمولائیف بھی تھے۔

موناکو کے شہزادہ البرٹ دوم نے اس واقعے کو "وحشیانہ جرم" اور "پوری موناکو کمیونٹی کے لیے صدمہ" قرار دیا۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ لورینٹ نونیز کے ایک معاون نے کہا، پولیس "مجرم کی تلاش کے لیے کام کر رہی ہے جو فرار ہو گیا ہے۔"

دھماکے میں ایک بزرک جوڑے کو مہلک زخم آئے جبکہ ایک 13 سالہ بچے کو کم شدید چوٹیں آئیں، موناکو کے وزیرِ مملکت کرسٹوف میرمند نے ان کی شناخت ظاہر کیے بغیر کہا۔

جائے وقوعہ پر اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے دیکھا کہ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ایک ہیلی کاپٹر فضا میں چکر لگا رہا تھا۔

جائے وقوعہ پر تقریباً 50 فائر فائٹرز اور 80 سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔

بولٹ، سیسے کے چھرّے

پبلک پراسیکیوٹر سٹیفن تھیبالٹ نے کہا کہ ایک مشتبہ شخص عمارت کی لابی میں ایک بیگ یا پیکیج چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

نیز کہا کہ یہ بات فوراً معلوم نہیں ہوئی کہ عمارت کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

موناکو حکومت نے کہا کہ "زوردار دھماکہ" ایک "پارسل بم" کی وجہ سے ہوا تھا اور ایکس پر کہا، "ویڈیو نگرانی میں ایک مشتبہ شخص کو فرانس کی بوسولی میونسپلٹی کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔"

میرمند نے کہا کہ گواہوں نے مشتبہ شخص کی شناخت کے لیے معلومات فراہم کی تھیں اور یہ کہ دھماکہ خیز آلے میں بظاہر بولٹس اور سیسے کے چھرّے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی اہلکاروں نے صدمے سے اور دھماکے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے سے زخمی ہونے والے چار دیگر افراد کا علاج کیا۔

نیز کہا، "میرے علم کے مطابق یہ تاریخ میں پہلی موقع ہے کہ اس طرح کی کارروائی خودمختار ریاست میں ہوئی ہے۔"

موناکو کے ایک کروڑ پتی رہائشی یرمولائیف دسمبر 2023 سے کئیف کی جانب سے پابندیوں کا شکار ہیں جن کے بارے میں یوکرین کی سکیورٹی سروسز نے مبینہ طور پر کہا کہ روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں ان کا شراب کا کاروبار اس کی وجہ ہے۔

میرمند نے پیر کے اواخر میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا، انٹیلی جنس سروسز متأثرین کا پس منظر سمجھنے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ کیا دوسروں کو مخصوص خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، پراسیکیوٹر منگل کو ایک اور نیوز بریفنگ دیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں