2026-06-22T083037Z_243967474_RC2WYLAGZNL6_RTRMADP_3_BRITAIN-POLITICS

کیمرون سے سٹارمر تک: ’’ بریگزٹ ‘‘ کی نحوست برطانیہ کا تعاقب کر رہی؟

دس سال میں دونوں پارٹیوں کے چھ وزرائے اعظم مدت پوری ہونے سے پہلے ہی عہدوں سے الگ ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2016 میں یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے "بریگزٹ" کے ریفرنڈم کے بعد سے برطانیہ اپنے شدید ترین سیاسی انتشار کے مراحل میں سے ایک میں داخل ہو گئی ہے۔

اس کے بعد برطانوی حکومتیں سیاسی استحکام کے ایک نمونے سے تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے اکھاڑے میں تبدیل ہو گئیں۔ صرف ایک دہائی کے دوران کنزرویٹو اور لیبر پارٹیوں کے چھ رہنما باری باری وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے اور ان میں سے بیشتر سیاسی یا اقتصادی بحرانوں یا جماعتی دباؤ کی وجہ سے اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی عہدوں سے الگ ہو گئے۔ اس صورت حال نے ایسے بڑھتے ہوئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا برطانیہ واقعی قلیل مدتی حکومتوں کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

کیمرون: ریفرنڈم جس نے اپنے ہی بانی کو فارغ کر دیا

کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرون نے سال 2010 سے 2016 کے درمیان وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا اور 2015 کے انتخابات میں اپنی پارٹی کو پارلیمانی اکثریت دلانے میں کامیاب رہے لیکن یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت کے بارے میں ریفرنڈم کرانے کا ان کا فیصلہ ان کے سیاسی سفر کا آخری نقطہ ثابت ہوا۔ جون 2016 میں عوامی ووٹنگ کے بعد برطانوی عوام یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں فیصلہ دینے میں کامیاب رہے جس کے بعد کیمرون نے یہ کہتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ سے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا کہ ملک کو "بریگزٹ" کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

برطانوی اخبار "دی گارڈین" کے مطابق بہت سے سیاسی مورخین کا خیال ہے کہ کیمرون کا استعفیٰ برطانیہ میں سیاسی انتشار کی اس دہائی کی پہلی چنگاری تھا جو موجودہ وقت تک جاری ہے۔

ڈیوڈ کیمرون

تھریسا مے: بریگزٹ کی قربانی

تھریسا مے جولائی 2016 میں کیمرون کی جانشین بنیں اور انہوں نے یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے عمل کو سنبھالنے کا ایک انتہائی کٹھن کام اپنے ذمے لیا۔ اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش میں انہوں نے 2017 میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کردیا لیکن وہ پارلیمنٹ میں مطلق اکثریت کھو بیٹھیں جس نے ان کی حکومت کو کافی حد تک کمزور کر دیا۔ تین سال کی سیاسی کشمکش اور "بریگزٹ" معاہدے کو منظور کرانے میں بار بار کی ناکامی کے بعد تھریسا مے کو 2019 میں اپنی ہی پارٹی کے دباؤ کے تحت استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑ گیا۔

تھریسا مے

جونسن: سکینڈلز نے فتح کا خاتمہ کر دیا

بورس جونسن جولائی 2019 میں اقتدار میں آئے اور اسی سال دسمبر میں قبل از وقت انتخابات کی دعوت دینے کے بعد دہائیوں میں کنزرویٹو پارٹی کی سب سے بڑی انتخابی فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ لیکن بحرانوں اور سکینڈلز کے ایک سلسلے ، جن میں سب سے نمایاں کرونا وبا کے لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی ہیڈکوارٹر کے اندر منعقد ہونے والی پارٹیوں کا معاملہ تھا، نے ان کی حکومت کے اندر بڑے پیمانے پر استعفوں کا رجحان شروع کردیا۔ اس نے انہیں جولائی 2022 میں اپنے عہدے سے دستبردار ہونے اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا۔

بورس جونسن

لیز ٹراس: صرف 45 دن

لیز ٹراس نے ستمبر 2022 میں حکومت کی قیادت سنبھالی لیکن وہ جلد ہی جدید برطانوی تاریخ میں کسی وزیر اعظم کی مختصر ترین مدتِ اقتدار کی مالک بن گئیں۔ "مینی بجٹ" کے نام سے مشہور اپنے اقتصادی منصوبے کے اعلان کے بعد برطانوی مالیاتی منڈیوں کو شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا اور برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں کنزرویٹو پارٹی کے اندر بغاوت ہوگئی اور عہدہ سنبھالنے کے صرف 45 دن بعد ان کے استعفے پر اس بغاوت کا اختتام ہوا۔

رشی سوناک: کنزرویٹو کا خاتمہ

رشی سوناک نے لیز ٹراس کے بحران کے بعد ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام بحال کرنے کی کوشش میں اکتوبر 2022 میں حکومت کی سربراہی سنبھالی۔ منڈیوں کو پرسکون کرنے میں کامیابی کے باوجود انہیں 14 سال کی حکمرانی کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت میں بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے انہیں 2024 میں عام انتخابات کرانے پر مجبور کردیا جس کا اختتام ان کی پارٹی کی شکست اور لیبر پارٹی کی اقتدار میں واپسی پر ہوا۔

کیر سٹارمر: تیز رفتار زوال

کیر سٹارمر جولائی 2024 میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر اس وقت پہنچ گئے جب انہوں نے لیبر پارٹی کو ایک ایسی شاندار فتح دلائی جس نے کنزرویٹو کی برسوں کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن ان کی حکومت کو دو سال سے بھی کم عرصے میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ خود پارٹی کے اندر سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں جون 2026 میں ان کے استعفے کا اعلان ہوا تاکہ وہ ایک مکمل سیاسی دورانیہ پورا کرنے سے پہلے اپنا عہدہ چھوڑنے والے ایک نئے برطانوی وزیر اعظم بن جائیں۔

برطانیہ کو کیا ہوا؟

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ نے صرف دس سالوں میں چھ وزرائے اعظم دیکھے ہیں جو تقریباً اتنی ہی تعداد ہے جتنی ملک نے پچھلی چار دہائیوں کے دوران دیکھی تھی۔ ماہرین نے اخبار "دی گارڈین" کو بتایا ہے کہ "بریگزٹ "، معاشی بحران، جماعتی تقسیم اور سیاسی طبقے پر عوامی اعتماد میں کمی، یہ تمام ایسے عوامل ہیں جنہوں نے روایتی سیاسی استحکام کے اس دور کو ختم کرنے میں حصہ لیا۔ حالانکہ یہ وہ ہی استحکام ہے جس کے لیے متحدہ بادشاہت جانی جاتی تھی۔

اس وقت جب برطانیہ ایک نئے وزیر اعظم کا استقبال کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا یو کے سیاسی انتشار کے ایک عارضی مرحلے سے گزر رہی ہے یا طویل میعاد حکومتوں کا دور واقعی ماضی کا حصہ بن چکا ہے؟

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں