FILE PHOTO: A man rinses his hat with water to cool off during a hot day amid a heatwave in Madrid, Spain, June 23, 2026. REUTERS/Mohammed Salem/File Photo
سپین میں جون میں گرمی سے ہونے والی 1000 سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں
حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ سپین میں 1,000 سے زیادہ اموات کی وجہ گرمی کی حالیہ لہر ہے جس نے یورپ کو بھون کے رکھ دیا ہے اور ملک میں ابتدائی چھے ماہ کو تاریخ کے گرم ترین مہینوں کے طور پر ریکارڈ کیا۔
کارلوس تھری ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے بتایا کہ گرمی کی لہر کے دوران کم از کم 1,028 افراد گرمی سے متعلق مسائل سے ہلاک ہوئے۔
قومی موسمیاتی ایجنسی ایمیٹ کے مطابق یہ تعداد جون 2025 میں گرمی سے ہونے والی 407 اموات سے دوگنی تھی۔
ایمیٹ نے بدھ کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سپین میں 2026 کے پہلے چھے ماہ گرم ترین رہے جہاں درجہ حرارت اوسطا سطح سے 1.6 سیلسیئس زیادہ تھا۔ سال کے پہلے سات گرم ترین سمیسٹرز (ششماہی) گذشتہ 10 سالوں میں واقع ہوئے ہیں۔"
ایمیٹ نے کہا کہ جون 2026 دوسرے گرم ترین جون کے طور پر آیا جب "درجہ حرارت معمول سے اوسطاً 3.2 سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔"
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کے سائنسدانوں نے کہا کہ جون کے آخر سے یورپ کو جھلسانے والی لہر یورپ میں ریکارڈ کی گئی اب تک کی شدید ترین لہر تھی اور موسمیاتی تبدیلی کے بغیر یہ جون میں "عملاً ناممکن" تھی۔
جرمنی، پولینڈ، جمہوریہ چیک، سلوواکیہ اور ہنگری کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں جون کے درجہ حرارت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
فرانس کو ریکارڈ توڑ اوسط درجہ حرارت دیکھنا پڑا اور ملک کو رات کے وقت شدید ترین درجہ حرارت کا سامنا ہے۔