U.S. Secretary of State Marco Rubio shakes hands with China’s Foreign Minister Wang Yi in Munich, Germany, February 13, 2026, on the sidelines of the Munich Security Conference. Alex Brandon/Pool via REUTERS
امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے: چین
چینی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کے دوران تائیوان کے بارے میں بھی متنبہ کیا
چینی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔ انہوں نے تائیوان کے حوالے سے ایک انتباہ بھی دیا۔
حالیہ مہینوں میں چین اور امریکہ کے درمیان تجارت، کسٹمز ڈیوٹی اور تائیوان سمیت جیو پولیٹیکل امور جیسے کئی شعبوں میں تناؤ کی سطح بڑھ گئی ہے۔ یاد رہے تائیوان پر بیجنگ اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔
مئی میں امریکی صدر ٹرمپ نے تناؤ سے بھرپور تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں بیجنگ کا دورہ کیا اور اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کی لیکن کسٹمز ڈیوٹی اور چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں جیسے مسائل پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب بھی شدید ہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن "سی سی ٹی وی" کے مطابق وانگ یی نے منگل کو ایک فون کال میں مارکو روبیو سے کہا کہ سٹریٹجک استحکام کے حامل تعمیری تعلقات کا قیام محض ایک نعرہ نہیں ہے، اس کے لیے عملی اقدامات، ایک دوسرے کے قریب آنے اور کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
جون میں چین نے واشنگٹن کی جانب سے چینی فوج کی مبینہ مدد کرنے کے پس منظر میں بعض چینی ٹیک کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کے جواب میں، دفاع اور نایاب معدنیات کے شعبے سے وابستہ 10 امریکی کمپنیوں پر برآمداتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ وانگ یی نے روبیو سے کہا کہ دونوں فریقوں کو مسائل کی فہرست کو مختصر کرنا چاہیے اور کئی پوشیدہ خطرات و خدشات کا انتظام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان کے معاملے کے دور رس اثرات ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ تائیوان سے متعلق امور کو انتہائی احتیاط کے ساتھ سنبھالے گا۔ تائی پے چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی حد تک واشنگٹن کی حمایت پر انحصار کرتا ہے جبکہ چین نے حالیہ مہینوں میں جزیرے کے ارد گرد اپنی فوجی مشقیں تیز کر دی ہیں۔ واضح رہے امریکی وزیر خارجہ نے جون میں کہا تھا کہ تائیوان کے لیے 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کا معاہدہ زیرِ غور ہے۔