کاظم غریب‌آبادی، سفیر ایران در آژانس

ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے مواصلاتی چینل کا قیام

6 ارب ڈالر منجمد فنڈز کا کچھ حصہ بنیادی اشیاء کی خریداری پر خرچ ہوگا:یرانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا دور مکمل ہو گیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات دوحہ میں کہی۔

سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے غریب آبادی کے حوالے سے نقل کیا کہ شرکاء تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دینے اور اس پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کل تک ایک رابطہ چینل قائم کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا کہ 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کا ایک حصہ ایران کی ضروریات کے مطابق اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آج دوحہ میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ثالثوں کے ذریعے غیر براہ راست تکنیکی مذاکرات ہوئے جس کا مقصد فریقین کے درمیان تبادلہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرنا تھا۔

واشنگٹن اور تہران جون کے وسط سے مذاکرات میں مصروف ہیں جو کہ 17 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت 60 دن تک جاری رہیں گے اور ان میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تناظر میں ایک دوسرے پر حملوں کے بعد امریکہ اور ایران نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ مفاہمت کی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کے لیے قطر میں حکام کو بھیجیں گے۔

یادداشت میں کئی اہم نکات طے کیے گئے جن میں مختلف محاذوں پر جنگ کا خاتمہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایران کی بندرگاہوں سے امریکی پابندیاں ہٹانا تہران کے منجمد اثاثوں کا ایک حصہ جاری کرنا اور 60 دن کی مدت کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان بہت اچھی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح معاملات آگے بڑھ رہے ہیں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل درست سمت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت اچھی ملاقاتیں کی ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے انہیں سخت جواب دیا تھا مگر اب ہم بہت اچھی طرح سمجھوتہ کر رہے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں