تہران سے (آرکائیو تصویر - رائٹرز)
ایران اور امریکہ نے بدھ کے روز بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور مکمل کر لیا ہے جس میں دائمی امن کی جانب پیش رفت کے کوئی آثار نمایاں نہیں ہوئے کیونکہ بات چیت کا محور وہ مسائل رہے جنہیں دو ہفتے قبل حل ہو جانا چاہیے تھا۔
قطری وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز اشارہ کیا کہ قطر اور پاکستان کے حکام نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں مکمل کر لی ہیں۔ انہوں نے جھیل لوسرن سربراہی اجلاس کے نتائج کی بنیاد پر اسلام آباد میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت کا ذکر کیا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے انکشاف کیا کہ فریقین نے آنے والے وقت میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگلی ملاقات کی تاریخ کا تعین سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنئی کی آخری رسومات 9 جولائی کو مکمل ہونے کے بعد جلد از جلد کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر بحث کے لیے دو دن
خبر رساں ادارے رائیٹرز نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو دن آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی اور ایران کے لیے مالی مراعات پر بحث کرتے ہوئے گزارے ہیں۔ یہ دونوں گزشتہ جون میں طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے ستون تھے، جبکہ ان مشکل موضوعات پر بحث نہیں کی گئی جن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ یہ فریم ورک ان کے حل کی راہ ہموار کرے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا کہ فریقین نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل درست سمت میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بہت اچھی ملاقاتیں کی ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
تاہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایٹمی پروگرام پر ان مذاکرات میں بات نہیں ہوئی جو تکنیکی نوعیت کے تھے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اس مسئلے پر بعد میں بات کی جائے گی۔
دونوں فریقین میں سے کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ آیا آبنائے ہرمز کے تنازعات حل ہوئے ہیں یا نہیں۔
آبنائے پر کنٹرول کس کا ہوگا؟
گذشتہ ماہ طے پانےوالےابتدائی معاہدے یا مفاہمت کی یادداشت میں یہ طے پایا تھا کہ ایران اور امریکہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بحال کرنے کی اجازت دیں گے جہاں سے جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
تاہم جزوی طور پر جہاز رانی کی بحالی کے باوجود اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی صورتحال تاحال واضح نہیں ہے۔ دو اعلیٰ ایرانی ذرائع نے زور دیا ہے کہ تہران آبنائے پر اپنی حاکمیت اور گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی صلاحیت کے بین الاقوامی اعتراف کے حصول کے لیے پرعزم ہے، چاہے اسے طاقت کے ذریعے ہی کیوں نہ نافذ کرنا پڑے۔