امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 3D پرنٹ شدہ چھوٹا ماڈل جس کے پس منظر میں نیٹو لوگو ہے۔ (رائٹرز)
نیٹو : امریکی فوجی ہتھیاروں میں کمی، یورپی ممالک صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوشاں
اگلے ہفتے انقرہ میں ہونے والی نیٹو کانفرنس سے پہلے یورپی رکن ملکوں نے ان تمام پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کا اہتمام کر لیا ہے جو امریکہ نیٹو دفاعی منصوبے نے چھوڑ دی تھیں۔ یہ بات نیٹو سے متعلق ذرائع نے بدھ کے روز مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتائی ہے۔
تاہم نیٹو ارکان ابھی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سرگرداں ہیں جو سٹریجک بمبار طیاروں کے نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ امریکہ نے رکن ممالک کو بتا دیا ہے کہ وہ اب دو کے بجائے اپنا صرف ایک جنگی طیارہ فراہم کرے گا۔ ذرائع نے یہ بات اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔
امریکہ کی طرف سے اپنے اتحادیوں کو ماہ مئی میں بتایا دیا گیا تھا کہ اس نے نیٹو کے لیے اپنے حصے کے کام کو سکیڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس لیے وہ فوجی حوالے سے اپنے اثاثوں کو بھی اب پہلے کی طرح فراہم نہیں کر سکے گا۔ یہ امریکی اعلان امریکہ کے لیے بحران کے پیدا ہونے کا باعث بنا ہے۔ اس صورت حال میں نیٹو کے یورپی رکن ممالک کو اگلی نیٹو کانفرنس سے پہلے سر جوڑنا پڑے ہیں۔ انقرہ میں متوقع کانفرنس 7 اور 8 جولائی کو منعقد ہوگی۔
نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر اور امریکی ایئر فورس کے جنرل الیکیئس گرینوچ کے مطابق نیٹو ارکان کی کوشش ہے کہ امریکی افواج اور امریکی فوجی ہتھیاروں پر موجود نیٹو کی اس غیر صحت مندانہ احتیاج کو بتدریج ختم کیا جائے۔ کیونکہ امریکہ خود بیک وقت کئی قسم کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔
ماہ جون کے وسط میں نیٹو سیکرٹری جنرل مارک روٹۓ نے اتحادی ارکان کے حوالے سے بتایا تھا کہ اب دیگر ارکان دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنا پہلے سے زیادہ حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پیدا ہونے والی کمی کا ازالہ ہو سکے۔ مگر انہوں نے اس سلسلے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔
مغربی خبررساں ادارے 'روئٹرز' نے جب اس سلسلے میں نیٹو ترجمان سے مزید جاننا چاہا تو ترجمان نے جنرل روٹے کے پہلے سے دیے گئے بیان کو دیکھنے کا کہہ دیا۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی نیٹو کے لیے اپنے حصے میں کمی کے اقدامات کا ابھی کھلا اظہار نہیں کیا ہے۔
لیکن ایک فوجی ذریعے نے 'روئٹرز' کو بتایا ہے کہ امریکہ نے فضا میں ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں سے لے کر، جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں سمیت ہر طرح کی کٹوتیاں کر دی ہیں۔ اس طرح ایف 15 طیارے اور ایف 15 ای طیاروں کی تعداد میں ہونے والی ایک تہائی کمی کے باعث مجموعی تعداد 99 رہ جائے گی۔ جبکہ ایم کیو 4 اور ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کی تعداد نصف کم ہوجانے سے 12 رہ جائے گی۔
علاوہ ازیں فضا میں ہی ایندھن بھرنے میں کام آنے آنے والے 'کے سی 135' اور 'کے سی 46' امریکی طیاروں کی نیٹو کے لیے تعداد 79 سے کم ہو کر 63 رہ جائے گی۔ بمبار اور طیارہ بردار بھی اب دو کے مقابلے میں ایک رہ جائے گا۔
ذرائع کے مطابق میری ٹائم گشتی طیاروں کی تعداد بھی امریکہ 26 سے کم کر کے 15 کر چکا ہے۔ ڈسٹرائر جہازوں کی تعداد 17 سے کم ہو کر 9 رہ گئی ہے۔ نیز کروز میزائل بردار سب میرین کو بھی امریکہ نے نیٹو فورسز کا حصہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیٹو اتحاد جو کہ دنیا کا سب سے بڑا دفاعی اتحاد ہے ان دنوں اپنی تاریخ کے بہت مختلف موڑ سے گزر رہا ہے۔ یورپی ممالک اس صورت حال پر تشویش میں مبتلا ہیں جو صدر ٹرمپ کی طرف ایک سے زائد بار نیٹو اتحادی ممالک کو دھمکیاں دینے کے بعد عملا پیدا ہو چکی ہے۔