Prime Minister Shehbaz Sharif, accompanied by Field Marshal Asim Munir, meets US President Donald Trump
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے، جبکہ پاکستانی عوام نے برسوں سے دہشت گردی کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر گئی۔ 26 فروری 2026 کو افغان فورسز کی جانب سے مبینہ سرحد پار حملوں کے بعد پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا، جس کے تحت افغانستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کی گئیں۔
سرحدی کشیدگی کے باعث طورخم، چمن اور دیگر سرحدی راستے گزشتہ برس 13 اکتوبر سے بند ہیں، جبکہ فی الحال صرف افغان پناہ گزینوں کو پاکستان سے افغانستان واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کوئی نیا نہیں۔ اکتوبر 2025 میں بھی دونوں جانب کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جبکہ فروری 2026 میں ہونے والی لڑائی کو حالیہ برسوں کی بدترین سرحدی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغان سرحدی علاقوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے وسائل سے مالا مال جنوبی صوبے بلوچستان میں چار ڈرون مار گرائے۔
پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ برتر ہیں۔
تاہم افغانستان پر حکومت کرنے والے افغان طالبان چھاپہ مار جنگ کے ماہر ہیں، جو 2021 میں واشنگٹن کے انخلا اور اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل، امریکی قیادت والی افواج کے خلاف کئی دہائیوں تک لڑ کر سخت جان ہو چکے ہیں۔
پاکستان واشنگٹن کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
اسلام آباد، افغانستان پر ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جنہیں وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، اور ان کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال رہا ہے۔
گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد بار رابطے کیا لیکن وہ اس بات کی ضمانت حاصل کرنے میں ناکام رہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔
پاکستان بار ہر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔
تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ سال سرحدی جھڑپوں کے بعد سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں اور چین کی سربراہی میں دنوں ملکوں کے درمیان متعدد بار بات چیت ہو چکی ہے۔