بيت هيغسيث في اجتماع وزراء دفاع الناتو يونيو الماضي (أسوشيتد برس)
امریکی اخبار ’’ وال سٹریٹ جرنل ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں میں مزید کمی کا ایک منصوبہ تیار کیا تھا جسے وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد آخری لمحات میں روک دیا گیا۔
اس صورت حال سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے بارے میں جاری بحث کی عکاسی ہو رہی ہے۔ اپنی رپورٹ میں امریکی اخبار نے بتایا کہ پیٹ ہیگستھ گزشتہ ماہ برسلز جانے کی تیاری کر رہے تھے تاکہ ایک ایسا اعلان کریں جو شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) میں فوجی سربراہان کے اجلاس کے دوران ایک جھٹکا ثابت ہو۔
معاملے سے باخبر افراد کے مطابق پیٹ ہیگستھ یہ اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے کہ امریکہ یورپ میں تعینات اپنی افواج میں مزید کٹوتیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ کٹوتیاں پولینڈ میں ایک بکتر بند بریگیڈ کی تعیناتی کی منسوخی اور رومانیہ سے ایک انفنٹری بریگیڈ کے پچھلے انخلاء سے بھی بڑھ کر ہونا تھیں۔ تاہم ان کی تجویز کو امریکی وزیر خارجہ اور قائم مقام قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اور متعدد اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد روک دیا گیا۔
اس کی جگہ پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا کہ امریکہ یورپ میں اپنی افواج کی تعیناتی کا ایک جامع جائزہ لے گا اور یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک یورپ میں امریکی فوجی موجودگی میں کسی بھی ممکنہ کٹوتی کی رفتار یا حجم کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ نے ان "نیٹو" ممالک کو سزا دینے کی بات کی ہے۔ نیٹو ملکوں کے بارے میں ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ اپنے دفاع پر کافی خرچ نہیں کر رہے یا انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا ہے، ہیگستھ کی تجاویز اور ان کے سخت گیر خطابات نے اتحادیوں اور قانون سازوں بشمول متعدد اعلیٰ ریپبلکنز میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ان کی پالیسیاں اتحاد کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہیں اور روس کو مزید دلیر کر سکتی ہیں۔
ترکیہ میں اتحادیوں کا سربراہی اجلاس
توقع ہے کہ امریکی افواج کی تعداد اور اتحادی ممالک کے فوجی اخراجات کا معاملہ اگلے ہفتے انقرہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک اہم محور ہوگا۔ اتحاد کے حکام کو امید ہے کہ انقرہ سربراہی اجلاس امریکہ کے ساتھ مشترکہ موقف اور روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کے لیے مسلسل تعاون کو اجاگر کرے گا۔ تاہم انہیں ڈر ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تناؤ سربراہی اجلاس کی کارروائی پر حاوی ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق نیٹو کے عہدیدار اگلے سال البانیہ میں ہونے والے اتحاد کے سربراہی اجلاس کے منصوبوں کو منسوخ کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں نیٹو پر بہت زیادہ خرچ کرتا ہے اور اس سے کوئی فائدہ حاصل بھی نہیں کرتا۔ جنوری میں پینٹاگون کی طرف سے جاری کردہ دفاعی حکمت عملی میں اشارہ کیا گیا تھا کہ امریکہ مغربی بحر الکاہل اور مغربی نصف کرہ پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے حصے کے طور پر یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرے گا۔ دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اس کا مقصد یورپی براعظم کے روایتی دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود یورپی ممالک کو سونپنا ہے۔
اسی تناظر میں گزشتہ مئی میں وزیر جنگ نے اچانک اس گردشی مشن کو منسوخ کر دیا جس کے تحت فورٹ ہوڈ، ٹیکساس سے پولینڈ میں نو ماہ کے لیے ایک بکتر بند بریگیڈ تعینات کی جانی تھی۔ اس فیصلے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تاہم اس کے باوجود یورپ میں امریکی افواج میں مزید کٹوتیوں کا امکان برقرار ہے۔