F10394846

سعودی عرب کی نیوم بندرگاہ پر گندم کے پہلے بحری جہاز کا استقبال

بندرگاہ تبوک، الجوف، حائل اور القصیم سمیت شمالی علاقوں میں کھیپوں کی پہنچ کو تیز کرے گی: ساھم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیشنل گرین سپلائی کمپنی "ساھل" نے "نیوم" منصوبے کے تعاون سے مملکت کے شمال مغرب میں واقع نیوم بندرگاہ پر گندم کی پہلی کھیپ اتاری ہے جس کا وزن 66 ہزار ٹن تھا۔ نیوم بندرگاہ بحیرہ احمر پر اپنی سٹریٹجک لوکیشن کی بدولت سعودی لاجسٹک انفراسٹرکچر کی ترقی اور علاقائی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک بنیادی ستون کی نمائندگی کرتی ہے۔

"ساھل" نے وضاحت کی کہ نیوم بندرگاہ کا استعمال تبوک، الجوف، حائل اور القصیم سمیت شمالی علاقوں میں اس کی شاخوں تک کھیپوں کی پہنچ کو تیز کرتا ہے۔ اس سے تقسیم کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور صارفین کے لیے سروس کا معیار بلند ہوتا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے شائع کردہ ایک بیان کے مطابق یہ قدم لاجسٹک آؤٹ لیٹس کو متنوع بنانے اور سپلائی چینز کی کارکردگی کو بڑھانے کے مقصد پر مبنی کمپنی کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قدم سے آپریشنل عمل میں لچک بڑھتی ہے اور ہدف شدہ بازاروں اور علاقوں تک رسائی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔

کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام موثر شراکت داریوں اور جدید لاجسٹک حلوں کے ذریعے اناج کی سپلائی کے نظام کو ترقی دینے میں اس کی مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے جو سپلائی چینز کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے اور مملکت میں غذائی تحفظ کے اہداف کی حمایت کرتا ہے۔

اسی تناظر میں نیوم بندرگاہ کو ایک مربوط لاجسٹک مرکز بنانے کے لیے کام جاری ہے جو بندرگاہوں، سڑکوں اور بحری و برّی تجارتی راستوں کے نیٹ ورک کے ذریعے تین براعظموں کے درمیان براہ راست رابطہ فراہم کرے گا ۔ یہ بندرگاہ ایک ایسے نظام کے ذریعے مقامی اور علاقائی سطح پر لاجسٹک رابطے کو بھی فروغ دیتی ہے جس میں کارگو ہینڈلنگ کی خدمات، اندرونی علاقوں کی طرف برّی مال برداری اور مختصر فاصلے کی ساحلی بحری مال برداری شامل ہے۔ مملکت، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک تک پھیلے ہوئے کثیر المقاصد نقل و حمل کے حل بھی اس بندگارہ سے ممکن بنائے جائیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں