3 ستمبر 2025 کو بیجنگ، چین میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر فوجی پریڈ کے دوران ایک فوجی فضائی اور میزائل دفاعی گروپ HQ-22A میزائل دفاعی نظام کی نمائش کر رہا ہے۔ REUTERS/Maxim Shemetov

چین کا بحر الکاہل میں اسٹریٹجک میزائل کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آج پیر کے روز بحر الکاہل میں میزائل کا تجربے کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے کے ممالک کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ بیجنگ ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

چینی بحریہ کے ترجمان وانگ شیوئے منگ نے چین کی سوشل میڈیا ایپ وی چیٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ سنہ 2026ء کے چھ جولائی کو دوپہر بارہ بج کر ایک منٹ پر چینی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کی ایک اسٹریٹجک ایٹمی آبدوز نے بحر الکاہل کے کھلے سمندر کی طرف ایک اسٹریٹجک میزائل کامیابی سے فائر کیا جس میں تربیتی وار ہیڈ نصب تھا اور وہ کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ سمندری علاقے میں گرا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شینہوا نے واضح کیا کہ یہ تجربہ چین کی سالانہ فوجی مشقوں کے ایک معمول کے حصے کے طور پر کیا گیا اور متعلقہ ممالک کو اس بارے میں پہلے سے مطلع کر دیا گیا تھا۔

جاپان کا ردعمل

دوسری جانب جاپان نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ بحر الکاہل میں اپنے میزائل تجربے سے باز رہے۔ بیجنگ کی جانب سے پیر کے روز اس تجربے کے اعلان کے بعد جاپان نے یہ بات کہی، حالانکہ ٹوکیو کو اس تجربے کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

میزائل فائر کیے جانے سے قبل جاپان کی متعدد وزارتوں بشمول دفاع اور خارجہ امور کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہم نے سختی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تجرباتی بیلسٹک میزائل کے لانچ پر نظر ثانی کی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ جاپان کی سکیورٹی کے لیے کوئی خطرہ نہ بنے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں