5fe154ebd42e484b88d6047353e42cd7

چین کے بحر الکاہل میں میزائل تجربے پر امریکہ کی شدید تشویش

امریکی وزارت خارجہ کی بیجنگ کو اسلحہ سازی کو محدود کرنے پر سنجیدہ مذاکرات کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے چین کی جانب سے بحر الکاہل میں ایک آبدوز سے فرضی وار ہیڈ کے حامل "اسٹریٹجک" میزائل کے تجربے پر اپنی "شدید تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایک ایسے وقت میں جب امریکہ ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ کوششیں کر رہا ہے، چین بالکل اس کے برعکس چل رہا ہے۔ بیجنگ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیز رفتار اور غیر شفاف توسیع خطے اور دنیا کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے"۔

چینی بحریہ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ "چینی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کی ایک اسٹریٹجک ایٹمی آبدوز نے چھ جولائی کو دوپہر بارہ بج کر ایک منٹ پر بحر الکاہل کے کھلے سمندر کی طرف ایک اسٹریٹجک میزائل کامیابی سے فائر کیا جس میں تربیتی وار ہیڈ نصب تھا" ۔ "وہ کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ سمندری علاقے میں گرا"۔

اپنے بیان میں امریکی وزارت خارجہ نے چین کو "اسلحہ سازی کو محدود کرنے کے حوالے سے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے" کی دعوت دی ہے۔

امریکہ نے گذشتہ برس فروری میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان "نیو سٹارٹ" معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد بیجنگ کو شامل کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے کے لیے کثیر جہتی مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ کیونکہ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تھے۔

"نیو سٹارٹ" معاہدہ دو بڑی ایٹمی طاقتوں یعنی امریکہ اور روس کے درمیان اسلحہ کو محدود کرنے کا آخری معاہدہ تھا۔

واشنگٹن روس اور چین پر خفیہ تجربات کرنے کا الزام لگاتا رہتا ہے۔

اکتوبر سنہ 2025ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ سنہ 1992ء کے بعد اپنے پہلے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور ان کے مطابق یہ فیصلہ دیگر ممالک کی جانب سے کیے جانے والے تجربات کے جواب میں کیا گیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں