القدرات الصاروخية الإيرانية (تعبيرية)
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں موجود 85 امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے ہیں، جس سے خلیجی خطے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے ایران میں نئی فوجی کارروائیوں کے اختتام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان حملوں میں 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ان میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار، میزائل صلاحیتیں اور آبنائے ہرمز کے اطراف پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیاں شامل تھیں۔
اس سے قبل تہران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی حملوں کے جواب میں فیصلہ کن ردعمل دینے کا عزم ظاہر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی جنگی بحری جہازوں پر بھی میزائل داغے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج سنگین ہوں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی بحری اہداف کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں ایک امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) جاسوس ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے
دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران میں درجنوں مقامات پر حملوں کے بعد منگل کے روز ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، "خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں، شہری اور مقیم افراد پرسکون رہیں اور فوری طور پر قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔
ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ
امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے منگل کی شام اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں شہری عملے پر مشتمل تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھاری قیمت چکانا ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ امریکی فوج نے ایرانی کارروائیوں کو بلا جواز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
تعزیری کارروائیاں، جو جلد ختم نہیں ہوں گی
ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران میں کیے گئے امریکی حملوں میں ایرانی تنصیبات، بندرگاہوں، فضائی دفاعی نظام اور متعدد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
عہدیدار کے مطابق حملوں کی فہرست میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (Surface-to-Air Missiles)، کروز میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون لانچ پلیٹ فارم اور ساحلی نگرانی کے نظام بھی شامل تھے۔
دوسری جانب ایک اور امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ ایران کے خلاف یہ حملے "تعزیری نوعیت" کے ہیں اور ان کا سلسلہ جلد ختم ہونے والا نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہاز حملوں کا نشانہ بنے، جن میں قطر کا ایک مائع قدرتی گیس (LNG) بردار جہاز بھی شامل تھا۔
دوحہ نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا، حالانکہ امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کا معاہدہ برقرار تھا۔
منگل کو ہونے والے یہ حملے گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران کے خلاف پہلی براہِ راست امریکی فوجی کارروائی ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا تھا کہ گزشتہ حملے ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔