نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اردوان کا ماکروں کا استقبال (صدارتی دفتر ترکیہ)

ماکروں کو اردوان کی اہلیہ کے مقابل ایک بار پھر شرمندگی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ کے پروٹوکول کے دوران شرمندگی کے لمحے کا سامنا کرنا پڑا۔ وڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماکروں نے ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان کا ہاتھ چومنے کے لیے جھکنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ جس پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

یہ ملاقات سربراہی اجلاس کے آغاز سے قبل ہوئی، جس کی میزبانی ترکیہ دو دنوں تک کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں اتحاد کے مستقبل، دفاعی اخراجات میں اضافے، یوکرین میں جنگ کے اثرات اور علاقائی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اتحاد کے سیکورٹی کردار کو دوبارہ ترتیب دینے سے متعلق بات چیت شامل ہے۔

استقبالیہ تقریب کے دوران جب رہنما ایک دوسرے سے مل رہے تھے، ماکروں نے امینہ اردوان سے مصافحہ کرتے ہوئے ان کا ہاتھ چومنے کی کوشش میں جھکنے کی کوشش کی، لیکن امینہ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ اس کے بعد فرانسیسی صدر نے معمول کے مطابق مصافحہ جاری رکھا اور پھر اپنی اہلیہ، صدر اردوان اور ان کی اہلیہ کے ساتھ یادگاری تصویر بنوانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

اس صورتحال کے باوجود ماکروں اور ان کی اہلیہ بریجٹ، یا اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ میں سے کسی کے چہرے پر پریشانی یا تناؤ کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ چاروں نے یادگاری تصویر بنوانے سے پہلے خیر سگالی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات، مصافحہ اور گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا۔ ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا تھا کہ ماکروں استقبالیہ تقریب کے دوران مروجہ پروٹوکول کو بھول گئے تھے۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا

یہ واقعہ ماکروں اور امینہ اردوان کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سال 2018 میں جب فرانسیسی صدر نے پیرس کے ایلیسی محل میں ترک صدر کا استقبال کیا تھا، تو وڈیو فوٹیج میں ماکروں کو سلامی کے دوران امینہ اردوان کا ہاتھ چومنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسی طرح اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا، جس نے حالیہ واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اس وقت گردش کرنے والی وڈیو پر بڑے پیمانے پر رد عمل سامنے آیا تھا، اور مبصرین کا خیال تھا کہ ترک خاتون اول کا یہ عمل ان کی قدامت پسند روایات اور اقدار کی پاسداری کے مطابق ہے۔

یہی نہیں، بلکہ ماکروں کو جون 2025 میں ہالینڈ کے سرکاری دورے کے دوران بھی اسی طرح کے پروٹوکول کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جو کہ ہیگ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ہوا تھا۔ وڈیو فوٹیج میں انہیں ہالینڈ کی ملکہ میکسیما اور شہزادی آریانا کا ہاتھ چومنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث چھڑ گئی اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ مختلف ممالک کے سفارتی آداب اور سلامی کے طریقوں میں کتنا فرق ہے اور سرکاری مواقع پر ہاتھ چومنا کہاں تک مناسب ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں