وزیرِ داخلہ محسن نقوی آٹھ جولائی 2026 کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر کولوکولٹسیف سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (وزارتِ داخلہ)
پاکستان اورروس وزارتِ داخلہ کےطےشدہ معاہدےکےساتھ سکیورٹی تعاون کوباضابطہ شکل دینےکےخواہاں
معاہدے سے دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل ملے گی
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان اور روس نے وزارتِ داخلہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ جیسا کہ دونوں ممالک عسکریت پسندی، بین الاقوامی جرائم اور علاقائی عدم استحکام کے خلاف قریبی رابطہ کاری چاہتے ہیں تو یہ سکیورٹی کے معاملات پر تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی طرف ایک قدم ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر کولوکولٹسیف کے درمیان اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات میں مجوزہ معاہدہ زیرِ بحث آیا۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور داخلی سلامتی میں روایتی سفارتی اور دفاعی مصروفیات سے آگے بڑھ کر پاکستان اور روس کے روابط میں بتدریج گہرائی کی عکاسی کرے گا۔
پاکستان کے لیے یہ تعاون اس وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد دہشت گرد گروہوں پر عالمی برادری کے ذریعے دباؤ ڈال رہا ہے۔ روس نے بھی افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات پر اپنی توجہ تیز کر دی ہے خاص طور پر داعش کے علاقائی طور پر وابستہ گروپوں کے حملوں اور وسطی ایشیا میں پھیلنے والے عدم استحکام کے خدشات کے بعد۔
پاکستانی وزارتِ داخلہ نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر ایک بیان میں کہا، "فریقین نے دوطرفہ تعاون کو بہتر کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے پر اتفاق کیا۔"
بیان میں کہا گیا کہ وزراء نے انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات، سائبر کرائم اور مشترکہ پولیس مشقوں میں تعاون بہتر کرنے اور علاقائی سلامتی کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور پاکستانی فریق کے مطابق خطے خاص طور پر افغانستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر گفتگو کی۔
افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے نقوی نے کہا، 25 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم ہیں۔
وزارت کے مطابق نقوی نے اپنے روسی ہم منصب کو بتایا، "ان انتہا پسند تنظیموں کو ختم کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔"
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات 2024 کے اواخر سے تیزی سے خراب ہوئے ہیں کیونکہ اسلام آباد کے مطابق طالبان انتظامیہ تحریکِ طالبان پاکستان کو دہشت گرد سرگرمیوں سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور دہشت گرد سرحد پار سے حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے اہم سرحدی گذرگاہیں بند ہیں، سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور پاکستانی نے افغانستان کے اندر فضائی حملوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔