امریکہ نے 9 جولائی 2026 کو ایران میں پل کو نشانہ بنایا

امریکی حملوں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک، تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین سے چند گھنٹے قبل ایرانی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک پر حالیہ امریکی حملوں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی فوج نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں فضائیہ اور بحریہ کے 8 اہلکار بھی شامل ہیں، جو ملک کے جنوب میں بندر عباس اور بوشہر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مارے گئے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ''فارس'' کے مطابق امریکی حملے میں ایک ریلوے پل کو نشانہ بنایا گیا، جو چین اور روس کے تجارتی راستوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی ''ایسنا'' نے بوشہر کے گورنر کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حملوں میں صوبے کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم بوشہر کے جوہری پلانٹ یا خارک جزیرے پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔

اس سے قبل ایرانی ٹی وی نے ایرانی ریلوے کمپنی کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ایک حملے کے بعد تہران-مشہد ریلوے لائن پر مسافر ٹرینوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ علی الصبح اس ریلوے ٹریک کے ایک حصے کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

ریلوے کمپنی نے بتایا کہ فنی اور آپریشنل ٹیمیں متاثرہ مقام پر پہنچ گئی ہیں اور نقصان کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی کہ ریلوے سروس کو جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ریلوے کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ رکی ہوئی ٹرینوں کے مسافروں کو بسوں کے ذریعے مشہد منتقل کرنے کے لیے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

کمپنی نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرینوں کی آمدورفت سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے ریلوے کے مسافر سروس مرکز سے رابطے میں رہیں۔

ساحل کے ساتھ 90 فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعوٰی

ٰایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ایران کے جنوبی ساحل کے ساتھ متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مسلسل دوسری رات ایران کے خلاف حملوں کی نئی کارروائی کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان میں امریکی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ایران کے خلاف نئی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ان حملوں میں ایرانی ساحل کے ساتھ تقریباً 90 فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھتا ہے تو اسے اس سے کہیں زیادہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین آج جمعرات کو شہر مشہد میں کی جائے گی۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق تدفین کی تقریبات مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2بجے (10:30 GMT) شروع ہوں گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں