شخص يبرد جسمه في ألمانيا– موجة حر- يونيو 2026- رويترز

جرمنی میں جون کی شدید گرمی کی لہر سے 5 ہزار سے زائد افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں جون کے دوران آنے والی شدید گرمی کی لہر سے گرمی سے متعلقہ وجوہات کے باعث تقریباً 5100 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

یہ اندازے جرمنی کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارےروبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹکی جانب سے جاری کیے گئے۔

جرمن خبر رساں ایجنسی کے مطابق ادارے نے جمعرات کو اپنی تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ میں گرمی سے متعلق اموات کے یہ اعداد و شمار جاری کیے۔

میڈرڈ میں لوگ ٹھنڈے پڑتے ہیں - ہیٹ ویو - جون 2026 - رائٹرز

دوسری جانب یورپی یونین کے موسمیاتی تبدیلی کی نگرانی کرنے والے ادارےکوپرنیکس نے بتایا کہ گزشتہ جون میں مغربی یورپ میں تاریخ کی بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کی گئی، جبکہ عالمی سطح پر یہ مہینہ گرمی کے لحاظ سے دوسرا گرم ترین جون ثابت ہوا۔

جون کے آخر میں جرمنی کے مختلف حصوں میں کئی دن تک شدید گرمی رہی، جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔

انتہائی موسمی حالات کے باعث ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ شدید گرمی سے سڑکوں کی سطح میں ابھار پیدا ہونے کے باعث بعض شاہراہوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جبکہ گرمی سے ہونے والے نقصانات کے سبب کچھ علاقوں میں ریل سروس بھی متاثر ہوئی۔

کوپرنیکس کے مطابق مغربی یورپ میں جون کے دوران اوسط درجہ حرارت 20اعشاریہ74 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو 1991 سے 2020 کے درمیان جون کے اوسط درجہ حرارت سے 3 ڈگری زیادہ تھا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

عالمی سطح پر جون کا اوسط درجہ حرارت 16اعشاریہ54 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1991 سے 2020 کے جون کے اوسط سے 0اعشاریہ56 ڈگری زیادہ تھا۔

اس کے علاوہ یہ مہینہ صنعتی انقلاب سے پہلے 1850 سے 1900 کے درمیان جون کے تخمینی اوسط درجہ حرارت کے مقابلے میں 1اعشاریہ39 ڈگری زیادہ گرم رہا۔

کوپرنیکس سروس نے اشارہ کیا ہے کہ گزشتہ جون کے دوسرے نصف میں آنے والی گرمی کی لہر، جو مئی میں غیر معمولی طور پر گرم موسم کے ایک اور دور کے بعد آئی، نے مغربی یورپ کے کئی ممالک میں درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑ دیے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں