لقطة من فيديو نشرته سنتكوم على حسابها في منصة إكس يظهر دفعها بأكثر من 20 سفينة حربية إلى محيط إيران
امریکہ نے ایران کی جانب 20 سے زائد جنگی بحری جہاز اور دو طیارہ بردار بحری بیڑے روانہ کر دی
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعہ کے روز ایران کے قریب سمندری حدود میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر دیے، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز ''یو ایس ایس ابراہم لنکن'' اور'''یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش'' بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صرف دو روز قبل ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی عائد کرنے کے امکان کا عندیہ دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا:امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز آج مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں، جبکہ سینٹرل کمانڈ کی افواج علاقائی سلامتی اور استحکام کو مزید مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ ماہ امریکی بحری جہازوں اور طیاروں نے بحیرہ عرب میں قریبی فارمیشنز میں سفر اور پرواز کی کارروائیاں کیں، جو امریکی ناقابلِ مقابلہ صلاحیتوں کا مظاہرہ تھا۔
بعد ازاں بحری نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش بحیرہ عمان میں داخل ہو گئے ہیں۔فوجی منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس صورت میں ضروری ہو سکتا ہے اگر واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ماضی میں ایسی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان نقل و حرکت کے ممکنہ مقاصد پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ وہ اپنی افواج کی تعیناتی سے متعلق کوئی آپریشنل اپ ڈیٹس فراہم نہیں کرے گی۔