الصمغ العربي ، السودان تعبيرية - خاص العربية نت

سوڈان صرف ایک شق پر تحفظات کے ساتھ امریکی تجویز سے متفق

6 میں سے 5 شقیں قبول کر لیں، دارفور اور کردفان کو ترجیح دینے پر تحفظات کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان نے ایک نکتے کے سوا امریکی تجویز کی تمام شقوں پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اعتراض والے بند پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔

’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ نے وہ دستاویز حاصل کر لی ہے جو امریکی ایلچی نے سودانی وزارت خارجہ کے حوالے کی تھیں جس میں چھ شقیں شامل تھیں۔ ساتھ ہی اس تجویز پر حکومت کا جواب بھی حاصل کر لیا ہے۔

اعتراض والی شق

تجویز میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے مطابق شمالی دارفور اور شمالی کردفان کے علاقوں کو ترجیح دیتے ہوئے ضرورت پڑنے پر انخلا اور فوجی دوبارہ تعیناتی سمیت اقدامات کیے جائیں۔

تاہم سوڈان نے اس متن پر اعتراض کیا کہ ترجیح صرف شمالی دارفور اور کردفان کو نہیں بلکہ تمام شہروں اور علاقوں کو حاصل ہے۔ سوڈان نے ایک آزاد سوڈانی قومی مکالمے کے آغاز کی تجویز سے اتفاق کیا۔

اس پر بھی اتفاق کیا کہ مکالمہ، سیاسی عمل اور ریاستی ادارے الاخوان المسلمون سے وابستہ انتہا پسند گروپوں، یا ملیشیاؤں اور مظالم کا ارتکاب کرنے والے افراد سے پاک ہوں ۔ سوڈان میں غیر ملکی فوجیوں کی عدم موجودگی کو یقینی بنائے جانے سے بھی اتفاق کیا۔

اتفاق والی پانچ شقیں

1۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی اور فائر بندی کی طرف راستہ

مذاکرات سوڈانیوں کی ملکیتی و قیادت میں ہونے والے سوڈانی مکالمے کے ذریعے تنازع کو حل کرنے اور فوجی حل کا سہارا نہ لینے کا عزم کیا گیا ہے۔ امدادی سامان کی ترسیل، متاثرین تک رسائی، شہریوں کے تحفظ اور مذاکرات کے تسلسل کو سہارا دینے کے لیے ملک بھر میں فوری طور پر 90 روز کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی، اس کی مانیٹرنگ کی معاونت اور اس سے متعلقہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔

محدود انخلا کی حمایت کے لیے افریقی یونین اور عرب لیگ کی شرکت کے ساتھ اقوام متحدہ کے تحت ایک طریقہ کار قائم کیا جائے جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی، شہریوں کے تحفظ اور بے گھر افراد کی واپسی میں مددگار ثابت ہو۔ سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ بیرونی مداخلت، غیر ملکی فوجی امداد، غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی اور ہتھیاروں کی غیر قانونی آمد کا خاتمہ کیا جائے۔ مستقل فائر بندی کے لیے مذاکرات کرنے اور سویلین اتھارٹی کی قیادت میں منتقلی شروع کرنے کے لیے اس جنگ بندی سے فائدہ اٹھایا جائے۔

2۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی اور شہریوں کا تحفظ

سوڈان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول اور سرحدی گزرگاہوں سمیت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور اس کے کارکنوں کی مکمل، محفوظ، تیز رفتار، غیر مشروط اور پائیدار آمد و رفت کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہریوں کے تحفظ، نقل و حرکت کی آزادی اور بے گھر افراد اور پناہ گزینوں کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی سے متعلق تمام فرائض کی پابندی کا عزم کیا گیا ہے۔ بنیادی انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور خدمات کا تحفظ اور ان کی بحالی کی جائے گی۔

3۔ مستقل فائر بندی اور سکیورٹی انتظامات

مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ فائر بندی ہمیشہ کے لیے قائم ہو سکے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی سے متعلق تمام ضروری انتظامات بھی طے کیے جائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر فوج کو بعض علاقوں سے واپس بلایا جائے گا یا مختلف مقامات پر دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔ اس عمل میں شمالی دارفور اور شمالی کردفان کو ترجیح دی جائے گی اور یہ سب کچھ اقوام متحدہ کے طے کردہ طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔ اس کے علاوہ جنگجوؤں سے ہتھیار واپس لیے جائیں گے، انہیں باقاعدہ طور پر فوجی یا مسلح گروہوں سے فارغ کیا جائے گا۔ پھر انہیں دوبارہ عام شہری زندگی یا مناسب سرکاری اداروں میں شامل کیا جائے گا۔ مسلح افواج کو مخصوص کیمپوں میں جمع کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دیگر متعلقہ اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

ایک ایسی قومی اور متحد فوج برقرار رکھی جائے گی جو منتخب، آزاد اور سول حکومت کے سامنے جواب دہ ہو۔ جنگ بندی پر عمل درآمد، اس کی نگرانی اور اس کی پابندی یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مبصرین تعینات کیے جائیں گے۔ یہ نگرانی اقوام متحدہ کے طریقۂ کار کے تحت ہوگی، افریقی یونین اور عرب لیگ بھی اس عمل میں شریک ہوں گی۔ ان مبصرین کی ذمہ داریوں میں جنگ بندی پر عمل درآمد میں مدد کرنا شامل ہوگا۔ یہ شامل ہوگا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام فریق جنگ بندی کی پابندی کریں۔ اسی طرح عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا شامل ہوگا۔ یہ تمام اقدامات سوڈان کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتے ہوئے کیے جائیں گے۔ آخری سکیورٹی انتظامات کا فیصلہ مستقل جنگ بندی کے معاہدے کی شقوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جو فیصلے سوڈانی عوام کی قیادت میں سوڈانیوں کی ملکیت والے جامع قومی عمل کے ذریعے کیے جائیں گے انہی کے مطابق قومی مکالمے کے نتائج پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

4۔ سیاسی عمل اور گورننس

سوڈانی عوام کی قیادت میں ان کی ملکیت اور مکمل آزادی کے ساتھ ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے گا تاکہ ملک میں عبوری دور کا آغاز کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ایک سول قیادت میں سیاسی عمل آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ایک جامع سیاسی سمجھوتا طے ہو اور سوڈان کو دوبارہ ایک منتخب سول حکومت کے تحت متحد کیا جا سکے۔ اس سارے عمل کے دوران ریاستی اداروں کو برقرار رکھا جائے گا اور انہیں محفوظ رکھا جائے گا۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ قومی مکالمہ، سیاسی عمل اور ریاستی ادارے ایسے پرتشدد انتہا پسند گروہوں سے پاک ہوں جو الاخوان المسلمون سے وابستہ ہوں، یا ایسی ملیشیاؤں اور افراد سے جنہوں نے سنگین مظالم کا ارتکاب کیا ہو۔ اسی طرح یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ سوڈان میں کوئی غیر ملکی کرائے کا جنگجو موجود نہ ہو۔ اس کے علاوہ تمام فریق نیک نیتی کے ساتھ قومی مکالمے میں حصہ لینے کے پابند ہوں گے۔ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ہر طبقہ آزادانہ، مکمل اور مؤثر انداز میں اس عمل میں شریک ہو سکے۔ اس جامع، سوڈانی عوام کی قیادت اور ملکیت والے سیاسی عمل کے مطابق ایک عبوری سول حکومت قائم کی جائے گی جوقومی مکالمے میں طے پانے والی اصلاحات پر عمل درآمد کرے گی۔ آزاد اور شفاف انتخابات کی نگرانی کرے گی اور انصاف، احتساب اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔

5۔ بحالی اور تعمیرِ نو

ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جامع منصوبے تیار کیے جائیں گے۔ زراعت اور مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ بین الاقوامی امداد اور سرمایہ کاری کو ملک میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ ملک کی سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کے لیے ایک تعمیرِ نو فنڈ قائم کیا جائے گا۔ یہ فنڈ ایک سول حکومت کی نگرانی میں کام کرے گا تاکہ تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ طویل المدتی ترقی کے منصوبوں پر بھی عمل درآمد کیا جا سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں