Caucasian happy woman sleeping in comfortable cozy bed at home girl lady asleep lying on soft pillow white linen orthopedic mattress resting relaxing napping healthy sleep nap in morning stress relief stock photo
خواتین میں نیند، یادداشت اور اعصابی بیماریوں کے درمیان تعلق ہے: نئی تحقیق
جینیاتی طور پر الزائمر کے مرض کے خطرے سے دوچار خواتین کے لیے نیند کا معیار زیادہ اہم ہے
کچھ لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی کمرے میں کیوں داخل ہوئے ہیں یا انہیں یہ یاد رکھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ انہوں نے چابیاں کہاں رکھی ہیں۔ کچھ حد تک بھول جانا بڑھتی عمر کا ایک قدرتی حصہ ہے۔ لیکن اگر بھولنا روزمرہ کا معمول بن جائے تو یہ یادداشت اور دماغی صحت کے لیے زیادہ سنگین مسئلے کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔ میگزین ’’ سائیکالوجی ٹوڈے ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ، جسے پروفیسر لوئی اور ان کی تحقیقی ٹیم نے انجام دیا ہے، کے مطابق یہ اشارہ ملتا ہے کہ نیند کا معیار توقع سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ان بڑی عمر کی خواتین کے لیے جن میں الزائمر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
مطالعہ کی اہمیت
نیند توجہ مرکوز کرنے اور موڈ کے لیے فائدہ مند ہے۔ نئی بات یہ ہے کہ اس کا تعلق الزائمر کے مرض کے ساتھ ہونے والی دماغی تبدیلیوں سے بھی ہے۔ الزائمر کی ذہنی علامات ظاہر ہونے سے برسوں پہلے ’’ 'ٹاؤ ‘‘ نام کی پروٹین دماغ کے ان حصوں میں گچھے بنا سکتا ہے جو یادداشت اور نیند کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ ٹاؤ پروٹین کے یہ گچھے الزائمر کی بیماری کی ایک نمایاں علامت ہیں اور نیند کی کمی دماغ میں ان کے پھیلاؤ کو بدتر بنا سکتی ہے جس کی وجہ سے یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔
خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں
مردوں کے مقابلے خواتین میں نیند کے مسائل کی شکایت اور الزائمر کی بیماری کا شکار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ صورت حال خواتین میں ان تعلقات کے مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اسی طرح خواتین مردوں کے مقابلے زبانی یادداشت کے ٹیسٹوں، جیسے کہ کوئی کہانی یاد رکھنے میں زیادہ مہارت دکھاتی ہیں۔ اگرچہ روزمرہ کی زندگی میں بہتر یادداشت فائدہ مند ہوتی ہے لیکن یہ ان خواتین میں یادداشت کی ابتدائی تبدیلیوں کو چھپا سکتی ہے کیونکہ یہ خواتین کلینک میں زبانی یادداشت کے معروضی ٹیسٹوں میں معمول کی کارکردگی دکھاتی ہیں۔ اس حوالے سے مواقع کی برابری کا ایک بہترین طریقہ بصری یادداشت کے ٹیسٹوں کا استعمال ہے۔ بصری ٹیسٹ میں کسی تصویر کی تفصیلات یا کسی چیز کی جگہ یاد رکھنا شامل ہوتا ہے۔ زبانی کاموں کے مقابلے بصری یادداشت کے کاموں میں جنسوں کے درمیان فرق کم واضح معلوم ہوتا ہے جو بصری یادداشت کے کاموں کو یادداشت کی کمزوری کا زیادہ حساس اشاریہ بنا سکتا ہے۔
جینیاتی عوامل
جینیاتی عوامل بھی دماغی صحت اور یادداشت کی صلاحیتوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر اوقات جینیاتی خطرے کا تعین 'APOE' نام کے ایک مخصوص پروٹین جین کی جانچ پڑتال کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ حالیہ مطالعات جینیاتی خطرے کی پیمائش پولی جینک رسک انڈیکس کا استعمال کرتے ہوئے کرتے ہیں جو اکیلے APOE جین کے مقابلے میں زیادہ جینیاتی معلومات کو مدنظر رکھتا ہے۔ یہ جینیاتی پیمانے محققین کو ان لوگوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کرتے ہیں جنہیں الزائمر کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور جو شاید اپنی نیند پر توجہ دینے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ٹاؤ سوزش کا مطالعہ
خواتین میں ٹاؤ سوزش کا مطالعہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں جاری ایک تحقیق ہے۔ اس مطالعے میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کی وہ خواتین شامل ہیں جن کی خاندانی تاریخ میں ڈیمنشیا رہا ہے۔ اب تک 63 خواتین اس میں حصہ لے چکی ہیں۔ الزائمر کے مرض کے جینیاتی خطرے کی پیمائش پولی جینک رسک انڈیکس کے ذریعے کی گئی جس میں کئی جینز کی معلومات کو ملا کر خواتین کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ اعلیٰ خطرہ اور کم خطرہ والی خواتین۔ ہر شریکِ تحقیق خاتون نے اپنی نیند کی صحت کے بارے میں ایک سوالنامہ پُر کیا اور زبانی اور بصری یادداشت کے ٹیسٹ مکمل کیے۔ زبانی ٹیسٹ نے الفاظ کی ایک فہرست کے لیے ان کی یادداشت کی جانچ کی جبکہ بصری ٹیسٹ نے اشیاء اور ان کے مقامات کے لیے ان کی یادداشت کا جائزہ لیا۔ ٹاؤ پروٹین پی ای ٹی (PET) سکیننگ کا استعمال کرتے ہوئے دماغ میں ٹاؤ پروٹین کے گچھوں کا پتہ لگایا گیا۔ ان گچھوں کو الزائمر کا اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔
اعلیٰ خطرے والا گروپ
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعلقات صرف ان خواتین میں ظاہر ہوئے جن میں الزائمر کا جینیاتی خطرہ سب سے زیادہ تھا۔ اعلیٰ خطرے والے گروپ میں شرکاء کی رپورٹوں کے مطابق نیند کا خراب معیار بصری یادداشت کے کاموں میں کمزور کارکردگی سے جڑا ہوا تھا۔ اسی طرح ان خواتین نے دماغ کے گہرے حصوں میں ٹاؤ پروٹین کی زیادہ مقدار دکھائی جو یادداشت کی صلاحیتوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اکثر الزائمر کے ابتدائی مراحل میں متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ تعلقات کم خطرے والے گروپ میں یا دونوں گروپوں میں سے کسی میں بھی زبانی یادداشت کے حوالے سے نہیں دیکھے گئے۔
ابتدائی تشخیص
پروفیسر لوئی اور ان کے ساتھیوں نے اپنے نتائج کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نیند کی کمی دماغ کے مخصوص حصوں میں ٹاؤ پروٹین کے گچھوں کے بڑھنے اور بصری یادداشت کی کمزور کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر ان بڑی عمر کی خواتین میں جو الزائمر کے زیادہ جینیاتی خطرے سے دوچار ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ نیند کو بہتر بنانا الزائمر سے وابستہ دماغی تبدیلیوں کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کر سکتا ہے حالانکہ اس کی تصدیق کے لیے متنوع پس منظر کے حامل افراد کے بڑے نمونوں پر مستقبل کے مزید طویل مدتی مطالعے کی ضرورت ہے۔
بصری یادداشت
محققین نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ بصری یادداشت کے ٹیسٹ بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار خواتین میں نیند سے وابستہ یادداشت کی کمزوری کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں اور نیند کے بارے میں ایک آسان سوالنامہ دماغی تبدیلیوں کی ابتدائی تشخیص کے لیے ایک تیز رفتار اور کم لاگت والا ذریعہ ہو سکتا ہے۔
بڑھتا ہوا جینیاتی خطرہ
یہ تمام نتائج مجموعی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ نیند اور دماغ کا تعلق ان خواتین کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے جن میں الزائمر کا جینیاتی خطرہ بڑھا ہوا ہے اور یہ کہ بصری یادداشت کے ٹیسٹ ان باریک تبدیلیوں کو پکڑ سکتے ہیں جنہیں زبانی ٹیسٹ نہیں پکڑ پاتے۔ یہ سب اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ نیند صرف آرام محسوس کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ دماغ کی عمر کیسے بڑھتی ہے۔