ٹرمپ پہلی بار ایئر فورس ون میں سوار ہوئے - 1 جولائی 2026 - رائٹرز

صدارتی طیارے سے متعلق معلومات افشا، ٹرمپ انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے صحافیوں کو طلب کرلیا

وزارتِ انصاف نئے طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات کو بے نقاب کرنے والی رپورٹس کی تحقیقات کر رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے میڈیا کے ساتھ اپنے ٹکراؤ کو تیز کر دیا ہے کیونکہ امریکی وزارتِ انصاف نے نیویارک ٹائمز کے کئی صحافیوں کو مانهاتن میں گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کے سمن جاری کردیےہیں۔ یہ کارروائی نئے صدارتی طیارے "ایئر فورس ون" سے متعلق سکیورٹی معلومات افشا ہونے کی مجرمانہ تحقیقات کے پس منظر میں کی گئی ہے۔

اخبار ’’ نیو یارک ٹائمز ‘‘ نے ہفتے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فیڈرل ایجنٹوں نے جمعے کے روز صحافیوں کو سمن پہنچائے جن میں سے کچھ ان کے گھروں تک پہنچائے گئے اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حساس سکیورٹی معلومات افشا کرنے کی تحقیقات کے سلسلے میں اگلے ہفتے گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہوں۔ اخبار کے مطابق سمن پانے والے صحافیوں میں جولین ای بارنز، ایرک لپٹن، ٹائلر پیجر اور ایرک شمٹ شامل ہیں جنہوں نے اسی ہفتے نئے صدارتی طیارے کے بارے میں دو اہم رپورٹیں شائع کی تھیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بدھ کو شائع ہونے والی پہلی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سیکرٹ سروس کی سفارش پر پرانے صدارتی طیارے ’’ وی سی 25 اے ‘‘ پر ترکیہ سے روانگی اختیار کی کیونکہ نئے طیارے کے حوالے سے سکیورٹی خدشات موجود تھے۔ جمعرات کو شائع ہونے والی دوسری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ نیا عبوری طیارہ ’’ وی سی 25 بی بریج ‘‘ موجودہ صدارتی طیاروں میں دستیاب بعض جدید دفاعی صلاحیتوں سے محروم ہے۔ ان صلاحیتوں میں میزائل مخالف حفاظتی نظام بھی شامل ہیں۔ یہ طیارہ بوئنگ 8-747 ماڈل کا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے ان سمنوں کو صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک کوشش قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم ، جو صحافت کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے، کی بنیاد پر انہیں عدالت میں چیلنج کرے گا۔ اب تک امریکی انتظامیہ نے اس تحقیقات کے بارے میں کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں