اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم کے قریب 16 فروری 2026 کو ایک اسرائیلی آبادی کا منظر۔ (رائٹرز)
رکن ممالک کے دباؤ کے بعد یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے پیر کو اسرائیلی آبادیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔
یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ پالیسی کایا کالاس نے برسلز میں ایک اجلاس کے آغاز میں کہا، "ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ مغربی کنارے کی صورتِ حال واقعی ناقابلِ برداشت ہے۔ مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ درحقیقت اس بات کو زیادہ سے زیادہ ناممکن بنا رہا ہے کہ دو ریاستی حل کبھی بھی عمل میں آ سکے۔"
یورپی یونین کے کئی ممالک بشمول آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور سپین پہلے ہی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادیوں پر تجارتی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
کالاس نے کہا، "غیر قانونی آبادیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی کے حوالے سے رکن ممالک نے کئی سوالات اور درخواستیں کی ہیں۔ تو دیکھتے ہیں کہ کیا اب فراہم کردہ ممکنات پر رکن ممالک زیادہ زور دے سکیں گے۔"
اس معاملے میں پیش رفت کی سست رفتار نے تجارت روکنے کے خواہشمند ممالک کو ناراض کر دیا ہے - بعض سفارت کاروں نے یورپی کمیشن پر اقدامات میں لیت و لعل کرنے کا الزام لگایا ہے۔
بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ میکسم پریووٹ نے کہا، پیش کردہ ممکنات بظاہر "آگے بڑھنے کی حقیقی خواہش کی نسبت ایک غور طلب مسئلہ" ہیں۔
انہوں نے کہا، ہم ٹھوس تجاویز طلب کر رہے ہیں۔