Close Up Of A Line Of High School Students Using Mobile Phones stock photo
آسٹریلیا میں نوجوان اور کم عمر لڑکے آن لائن جنسی بلیک میلنگ کے بڑھتے خطرے کی زد میں
آسٹریلیا کی سائبر سیفٹی ریگولیٹری اتھارٹی نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ نوجوان اور کم عمر لڑکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن جنسی بلیک میلنگ (Sextortion) کا تیزی سے نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے طریقہ کار میں "سنگین خامیاں" موجود ہیں۔
آسٹریلیا کی ای کمشنر برائے آن لائن تحفظ (eSafety Commissioner) کو دسمبر پر ختم ہونے والے گزشتہ چھ ماہ کے دوران آن لائن جنسی بلیک میلنگ سے متعلق 2200 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق مجرم متاثرین کو دھوکے سے اپنی نجی یا برہنہ تصاویر بھیجنے پر آمادہ کرتے ہیں، پھر ان سے رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر رقم نہ دی گئی تو تصاویر اہلِ خانہ اور دوستوں میں پھیلا دی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا گروپ 18 سے 24 سال کے نوجوانوں کا تھا، جن کی جانب سے 803 شکایات درج کرائی گئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 15 سال سے کم عمر بچے بھی اس جرم کا شکار ہوئے، جن میں 186 لڑکوں اور 58 لڑکیوں کی شکایات موصول ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق انسٹاگرام اور واٹس ایپ وہ پلیٹ فارمز تھے جن کا نام سب سے زیادہ شکایات میں سامنے آیا، جبکہ کم عمر بچوں کی بڑی تعداد نے بتایا کہ بلیک میلر سے پہلی بار رابطہ ٹک ٹاک کے ذریعے ہوا تھا۔
رپورٹ میں 16 سالہ "سام" کی مثال بھی دی گئی، جس نے انسٹاگرام پر خود کو "جیسیکا" ظاہر کرنے والی ایک خاتون سے رابطہ کیا۔ بعد میں اسے واٹس ایپ پر منتقل کیا گیا، جہاں اس سے برہنہ تصویر بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔چند لمحوں بعد اس سے 200 ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا، حتیٰ کہ اسے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ وہ رقم اپنے والدین سے چرا لے، ورنہ اس کی تصویر آن لائن موجود تمام جاننے والوں کو بھیج دی جائے گی۔
آسٹریلیا کی ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمین گرانٹ نے کہا کہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صارفین کے تحفظ کے حوالے سے "بڑی خامیوں" کا شکار ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متاثرہ افراد کی شکایات پر کہیں زیادہ تیزی سے کارروائی کریں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا:اکثر مجرموں کا مقصد فوری مالی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وہ شدید دباؤ ڈال کر متاثرین کو رقم ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس قسم کی بلیک میلنگ شدید ذہنی دباؤ، خوف، نفسیاتی اذیت اور مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
جولی اِنمین گرانٹ نے مزید کہا کہ ان کا ادارہ متعدد مواقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایسے شواہد فراہم کر چکا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجرم ان کی سروسز کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور انہیں اس استحصال کی روک تھام کے لیے واضح رہنمائی بھی دی گئی، لیکن دستیاب ٹیکنالوجی کے باوجود ان کمپنیوں کی جانب سے مؤثر ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔