11 جولائی 2026 کو جاری کی گئی ہینڈ آؤٹ ویڈیو سے لی گئی اس اسکرین گریب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کے خلاف اس ہفتے حملوں کا تیسرا دور تھا جس کے دوران ایک پروجیکٹائل فائر کیا گیا۔

امریکہ ایران سے جنگ کے نام پر مشرق وسطیٰ کی تباہی کر رہا ہے : چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین نے امریکہ کی ایران کے خلاف تازہ کارروائیوں سے ایک بار پھر خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر حملوں کی آڑ میں مشرق وسطیٰ کو خطرناک تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔

یمنی حوثیوں کے بارے میں سلامتی کونسل میں ایک بحث کے دوران اقوام متحدہ کے لیے چینی سفیر 'سن لیی 'نے کہا ' یمن اور بحری احمر میں پیدا شدہ صورت حال کا ناقابل تردید ذمہ دار ہے۔

چین کے سفیر میں زور دے کر یہ امریکہ ہی ہے جو دشمنی کی اس صورت حال کو روکنے والی کونسل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ غزہ میں بھی بحران جاری رہے اور کشیدگی پھیلتی چلی جائے۔

سفیر کہنا تھا ' امریکہ یہ سب کچھ سلامتی کونسل کی طرف سے دیے گئے کسی اختیار یا اجازت کے بغیر کر رہا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ اس وقت کر رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ نے بہتری لانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے بجائے ایران پر فوجی حملے شروع کر دیے ہیں۔ تاکہ خطے کو ایک بار پھر تباہی کی طرف دھکیل دے۔

اقوام متحدہ میں چین کے سفیر سن لیی امریکی سفیر کی چین کے خلاف کی گئی تنقید کا جواب دے رہے تھے۔ امریکی سفیر نے چین پر الزام لگایا تھا کہ یہ حوثیوں کو ہتھیار دینے پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ والٹز کا کہنا تھا' ایران جیسی ریاستیں اور کسی حد تک چینی کمپنیوں نے حوثیوں کو ہتھیار فراہم نہ کے کے لیے منظور کی گئی قرارداد 2216 کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیونکہ انہیں اس خلاف ورزی کے باوجود کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑی

یاد رہے سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2216 سنہ 2015 میں منظور کی تھی۔ تاکہ حوثیوں کی اس دشمنی پرمبنی کارروائیوں کو روکا جائے جو انہوں یمن میں شروع کر رکھی ہیں ۔ نیز حوثیوں کو یمن میں زیر قبضہ لیے گئے علاقوں سے دستبرداری کی طرف لایا جائے۔

یہ قرار داد ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں پر ایک اہدافی یا متعین نوعیت کی پابندی لگاتی ہیں کہ یمنیوں کو ہتھیار نہ دیے جائیں۔ علاوہ ازیں بعض شخصیات کے سفر کرنے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کی پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔

دو بڑی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان ان تلخی پر مبنی تنقید کے دوران چینی سفیر نے کہا امریکہ کو اپنے ان غلط اقدامات کو کے مضمرات کا خاتمہ کرنے کے لیے ٹھوس کوشش کرنی چاہیے۔ تاکہ اس کے بیانیے اور اقدامات کے منفی اثرات کا خاتمہ ہو سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں