امریکی لڑاکا طیارہ (X پر CENTCOM کی تصویر)

امریکہ کے ایران پر فضائی حملے جاری، بحری محاصرے کا اعلان

کشیدگی سے 17 جون کو طے پانے والی مفاہمت اور سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے ایران پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے سے چند گھنٹے قبل کیے گئے ہیں۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے مگر یہ پیش رفت اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی عسکری کشیدگی ہے جس سے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

اس تازہ کشیدگی جس کا مرکز تزویراتی اہمیت کا حامل آبنائے ہرمز ہے، نے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 5.1 فیصد اضافے کے ساتھ 87.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 81.21 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ لگاتار تیسری رات ایران کے جنوبی ساحلی شہروں بندر عباس اور بوشہر میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق حملوں میں ساحلی دفاعی نظام، ڈرونز، میزائل تنصیبات اور بحری آلات کو تباہ کیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بندر عباس اور بوشہر میں متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

خوزستان میں تیل تنصیبات پر بمباری

دوپہر کے وقت امریکی فوج نے عراق کی سرحد کے قریب صوبہ خوزستان میں واقع تیل کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا۔ مقامی حکام کے مطابق بمباری کا نشانہ آبادان کا شہر، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی قدیم ترین آئل ریفائنری موجود ہے۔ ان حملوں میں پیٹرو کیمیکل صنعت کا مرکز ماہشہر شہر بھی بنا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز سے جاری لڑائی میں اب تک 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اردن اور بحرین میں حملے

ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور اردن میں امریکی عسکری ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین کے الجفیر اڈے اور اردن کے ایک فضائی اڈے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اردنی مسلح افواج نے چار ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی

آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکرز پر ایرانی میزائل حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک ہو گیا ہے۔ بھارت نے اس واقعے پر تہران سے سخت احتجاج کیا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بھی علاقے میں حملے کی اطلاع دی ہے۔ اسی طرح عمان کے ساحل کے قریب ایک نارویجن ٹینکر میں نامعلوم آلے کے ذریعے دھماکے کی اطلاعات ہیں تاہم تمام عملہ محفوظ ہے۔

ایک امریکی لڑاکا طیارہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر سوار تھا - امریکی سینٹرل کمانڈ

ٹرمپ کی جانب سے محاصرے کا اعلان

ان تمام تر حالات کے باوجود صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کو خارج نہیں کیا۔ تاہم دباؤ بڑھانے کے لیے انہوں نے گذشتہ شب 8 بجے سے ایرانی بندرگاہوں کا سمندری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہی محاصرہ ہے جس کے بارے میں ایرانی مذاکرات کاروں کا کہنا تھا کہ اس کے نفاذ کے بعد ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا۔

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا تاکہ اس علاقے کی سکیورٹی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے اس بیان پر طنزیہ ردِعمل دیتے ہوئے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے کا محافظ رہا ہے اور رہے گا۔ 20 فیصد کی شرح بہت زیادہ ہے، ہم منصفانہ رویہ رکھیں گے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بین الاقوامی سطح پر چین نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ساحلی ممالک کے حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت اب خطرے میں پڑ چکی ہے، اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی دوبارہ باقاعدہ جنگ میں بدل چکی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں