مركز الملك سلمان للإغاثة
یمن میں غذائی ضروریات کے لیے 1 کروڑ ڈالر مالیت کی مشترکہ 'سعودی-برطانوی' امداد
ریاض اور لندن کے درمیان مشترکہ معاہدہ پیداواری بنیادی ڈھانچے کو بحال کرے گا اور خاندانوں کے استحکام کو فروغ دے گا
شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ اور اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے یمن کے صوبوں المہرہ اور حضرموت میں کمزور طبقات کی مدد اور ان کی قوتِ برداشت کو بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔
اس معاہدے کی روشنی میں شاہ سلمان مرکز اور برطانیہ و شمالی آئرلینڈ کی وزارت خارجہ، دولت مشترکہ اور ترقیاتی امور (FCDO) ... ورلڈ فوڈ پروگرام کو 1 کروڑ امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کریں گے، جسے فریقین برابر تقسیم کریں گے۔ یہ رقم یمن کے متعدد صوبوں مثلاً المہرہ، حضرموت، عدن، الضالع اور لحج میں منصوبوں کو سہارا دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اسی تناظر میں یہ معاہدہ مستحقین کے لیے اثاثوں کی مدد کی سرگرمیوں کے ذریعے غذائی ضروریات پوری کرے گا... اور مشروط نقد رقوم کی فراہمی کے ذریعے ان کی خوراک تک رسائی کو بہتر بنائے گا تاکہ وہ انسانی امداد پر انحصار کم کر سکیں۔
اس کے علاوہ پیداواری بنیادی ڈھانچے کی بحالی، ہدف بنائے گئے خاندانوں کو غذائی عدم تحفظ کے شدید مرحلے (چوتھے مرحلے) سے نکال کر استحکام اور خود انحصاری کے مرحلے میں لانا، نیز پیشہ ورانہ تربیت کے پروگراموں کا نفاذ، مستفید افراد کی مہارتوں کو ترقی دے کر پیداواری صلاحیت بڑھانا اور مقامی حکام کی صلاحیت سازی اور کمیونٹی اثاثوں کے انتظام و پائیداری کے لیے گورننس کے نظام کو فعال کرنا شامل ہے۔
سعودی عرب اپنے امدادی بازو شاہ سلمان مرکز اور یمن کی ترقی و تعمیر کے سعودی پروگرام کے ذریعے یمن میں انسانی ضروریات کا ایک اہم معاون ہے۔ یہ پروگرام ایسے ترقیاتی منصوبے اور پروگرام نافذ کرتا ہے جو انسانی و صحت کی ترقی، بنیادی ڈھانچے، توانائی اور پانی جیسے اہم اور بنیادی شعبوں کو ہدف بناتے ہیں۔
اسی تناظر میں یمن سعودی عرب کی جانب سے امداد حاصل کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جس کی کل مالیت تقریباً 29 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔ سعودی عرب یمن کو انسانی، ترقیاتی اور امدادی معاونت فراہم کرنے والے ممالک میں 49.3 فی صد حصہ ڈال کر پہلے نمبر پر ہے۔