امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے پر غور کر رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران اعلیٰ سکیورٹی حکام کی بریفنگز کے بعد مختلف عسکری آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
زیر غور منصوبوں میں ایران پر فضائی حملوں میں شدت لانا، آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی زمینی افواج بھیجنا اور جبل الفاس میں واقع انتہائی محفوظ سرنگوں کے کمپلیکس کو نشانہ بنانا شامل ہے، جہاں خفیہ جوہری سرگرمیوں کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی شام وائٹ ہاؤس کی سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں خارک جزیرے پر قبضے کے مختلف منظرناموں پر غور کیا گیا۔ خارک ایران کی تیل برآمد کرنے کی سب سے بڑی تنصیب کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اجلاس میں آبنائے ہرمز کے اطراف دیگر اہم مقامات پر بھی امریکی کنٹرول کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران جبل الفاس میں واقع سرنگوں کے اس کمپلیکس کو نشانہ بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی، جسے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ایک اہم مقام تصور کیا جاتا ہے اور جس پر امریکہ نے اب تک کوئی حملہ نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران کے اندر مزید فضائی حملوں کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں توانائی کے شعبے سے متعلق تنصیبات کو ممکنہ اہداف میں شامل کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
مسلسل اجلاس
امریکی حکام کے مطابق منگل کا اجلاس حالیہ ہفتوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والے متعدد رسمی اور غیر رسمی اجلاسوں کا حصہ تھا۔
ان اجلاسوں میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی شریک رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان مشاورتوں کے باوجود ٹرمپ نے ابھی تک آئندہ اقدام کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ وہ عوامی سطح پر اور بند کمرے کے اجلاسوں میں بھی یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ سفارتی حل اب بھی ان کی پہلی ترجیح ہے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق ایران نے ٹرمپ کے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا کہ وہ اپنے جوہری ذخائر سے دستبردار ہو جائے، حالانکہ کئی ہفتوں سے جاری فوجی حملوں اور اس عارضی معاہدے کے باوجود، جس کے تحت تہران کو تیل کی برآمدات سے اربوں ڈالر حاصل ہو سکتے تھے، پیش رفت نہ ہو سکی۔
سفارتی عمل تعطل کا شکار ہونے کے بعد ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے مزید سخت عسکری آپشنز تیار کرنے کو کہا ہے، جن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یا تو امریکی مطالبات تسلیم کرے یا کم از کم آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے بند کرنے کی ضمانت دے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اب بھی زمینی افواج بھیجنے کے معاملے میں محتاط ہیں، کیونکہ وہ ماضی میں خارک جزیرے پر قبضے یا ایران کی پوری تیل کی صنعت کو نشانہ بنانے جیسی بعض سخت دھمکیوں سے پیچھے بھی ہٹ چکے ہیں۔
تاہم اگر وہ ان منصوبوں کی منظوری دے دیتے ہیں تو تقریباً پانچ ماہ سے جاری یہ جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف امریکہ کی براہِ راست شمولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھنے اور آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے کہا:ہم جبل الفاس کو تباہ کر دیں گے۔ اس سے چند گھنٹے قبل انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ خارک جزیرے پر قبضہ غیر محتمل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اگر ہم ایران کو کافی حد تک کمزور کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں یہ قدم اٹھاؤں گا۔
امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے بار بار عسکری آپشنز کا ذکر ممکنہ طور پر ایک نفسیاتی دباؤ کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
جبل الفاس: انتہائی محفوظ مقام، جسے اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا
جبل الفاس کو ایران کے سب سے زیادہ محفوظ جوہری مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ گرینائٹ کی مضبوط چٹانوں کے اندر تعمیر کی گئی سرنگوں کے وسیع جال پر مشتمل ہے، جو پہاڑ کی چوٹی سے تقریباً 90 سے 145 میٹر گہرائی میں واقع ہیں۔ یہ گہرائی ایران کی نطنز اور فوردو جوہری تنصیبات سے بھی زیادہ ہے، جنہیں امریکہ اور اسرائیل ماضی میں نشانہ بنا چکے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس مقام کو امریکی بنکر بسٹر (تحصین شکن) بموں سے براہِ راست تباہ کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ غیر معمولی گہرائی میں واقع ہے اور یہاں ایسی معلوم فضائی گزرگاہیں یا وینٹی لیشن شافٹ موجود نہیں جنہیں نشانہ بنا کر حملہ مؤثر بنایا جا سکے، جیسا کہ فوردو تنصیب میں کیا گیا تھا۔تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا:اگر ایران نے جبل الفاس کو فعال جوہری مرکز بنانے کی کوئی بھی کوشش کی تو ہم فوری کارروائی کریں گے اور جو ضروری ہوا وہ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا:ابھی کسی کو معلوم نہیں کہ جبل الفاس میں واقعی کوئی سرگرمی ہو رہی ہے یا نہیں، یہ صرف ایک مفروضہ ہے جس پر بات کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی بنکر شکن بم اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ زمین کی بہت زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
خارک جزیرہ: اسٹریٹجک اہمیت کے ساتھ بڑے خطرات بھی
امریکی حکام کے مطابق خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے سے ایران کی تیل برآمدات کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ امریکی افواج کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا براہِ راست سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس حوالے سے امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) کے سابق سربراہ، ریٹائرڈ جنرل فرینک میک کینزی نے کہا کہ واشنگٹن کو اس آپشن کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔
ان کے بقول ایرانی سرزمین پر قدم جمانا مستقبل میں تہران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں ایک اہم عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں واقع دیگر جزیروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں، تاکہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنایا جا سکے اور ایران کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق ابو موسیٰ، تنبِ کبریٰ اور تنبِ صغریٰ ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔
تاہم حکام اور دفاعی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکی افواج ان جزیروں پر زمینی تعیناتی کرتی ہیں تو وہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی براہِ راست زد میں آ جائیں گی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ کر ایک وسیع فوجی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔