دخان حرائق الغابات الكندية يغطي سماء أميركا (أ ف ب)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ ایک نیا تنازع چھیڑتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ جنگلاتی آگ کے دھویں سے امریکہ کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے کینیڈین درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب کینیڈا میں سیکڑوں جنگلاتی آگ بھڑک رہی ہیں، جن کے دھویں سے امریکہ کے وسیع علاقوں میں فضائی آلودگی بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا کہ امریکی شہروں کو ڈھانپنے والا دھواں ہر سال دہرایا جانے والا جان بوجھ کر کیا گیا غفلت آمیز رویہ ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آلودگی کی قیمت بھی کینیڈا پر عائد موجودہ ٹیرف میں شامل کی جانی چاہیے۔
امریکی صدر نے کینیڈا پر الزام لگایا کہ وہ اپنے جنگلات کا مؤثر انتظام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوٹاوا نے جنگلات کی دیکھ بھال اور آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات، جیسے خشک لکڑی اور دیگر آتش گیر باقیات کی صفائی، مناسب انداز میں نہیں کیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی سے رابطہ کریں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کی حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
کینیڈا نے الزامات مسترد کر دیے
کینیڈین حکومت نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے معاملے میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مسلسل تعاون اور قریبی رابطہ موجود ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں ممالک اس مسئلے پر طویل عرصے سے مشترکہ کوششیں کرتے آ رہے ہیں۔
کینیڈا کی وزیر برائے ہنگامی انتظامات ایلینور اولشیفسکی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے ''مشترکہ تعاون کی ایک طویل تاریخ'' موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کینیڈا نے 2020 سے اب تک جنگلات کے تحفظ، پائیدار انتظام اور آگ سے بچاؤ کے پروگراموں پر تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب کینیڈا کے فائر فائٹرز حالیہ برسوں کے بدترین جنگلاتی آگ کے موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔ کینیڈین فاریسٹ فائر انفارمیشن سسٹم کے مطابق ملک بھر میں 937 جنگلاتی آگ اب بھی بھڑک رہی ہیں، جن میں سے بیشتر پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔
امریکہ میں فضائی آلودگی میں شدید اضافہ
کینیڈا اور امریکی ریاست مینیسوٹا کے شمالی علاقوں سے اٹھنے والے جنگلاتی آگ کے گھنے دھویں نے امریکہ کے مڈویسٹ اور شمال مشرقی علاقوں کے وسیع حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد حکام نے فضائی آلودگی کے خطرناک حد تک بڑھنے پر انتباہ جاری کر دیا۔
IQAir کے فضائی معیار کے اشاریے کے مطابق ڈیٹرائٹ دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا، جبکہ واشنگٹن اور شکاگو بھی شدید فضائی آلودگی سے متاثرہ شہروں میں شامل رہے۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے اور بیرونی سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
ادھر نیویارک اور نیو جرسی میں لائبریریوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر شہریوں میں مفت ماسک تقسیم کیے گئے، جبکہ دھویں اور کہر کی صورتحال برقرار رہنے کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے سفر کے دوران ماسک پہننے کو ترجیح دی۔
ورلڈ کپ فائنل پر بھی خدشات کے سائے
جنگلاتی آگ کے دھویں سے پیدا ہونے والے بحران نے اتوار کو امریکی ریاست نیو جرسی کے کھلے اسٹیڈیم میں شیڈول ورلڈ کپ کے فائنل کے انعقاد پر بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جولیانی نے کہا کہ منتظمین فضائی آلودگی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں ہوا کا رخ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ اس علاقے میں دھواں کس حد تک موجود رہے گا۔
امریکی محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فضائی معیار میں بتدریج بہتری کی توقع ہے، تاہم دھویں کی ایک نئی لہر کے جنوب کی جانب منتقل ہونے کا امکان اب بھی موجود ہے، جو جنگلاتی آگ موجودہ شدت سے جاری رہنے کی صورت میں میچ کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے جنگلاتی آگ کے موسم کو طویل کر دیا
ماہرین موسمیات کے مطابق سرحدوں سے گزرنے والی دھویں کی بار بار آنے والی لہروں کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، جس کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ اور زمین کی خشکی بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگلاتی آگ کا موسم طویل ہوتا جا رہا ہے اور آگ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر رہی ہے۔
یورپی ادارے کوپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس کے محقق مارک بیرنگٹن نے کہا کہ موجودہ موسمی حالات جنگلاتی آگ کو زیادہ وسیع اور دیرپا بنا رہے ہیں، یہاں تک کہ گرمیوں میں یہ آگ مسلسل کئی ہفتوں تک بھڑکتی رہ سکتی ہے۔
دوسری جانب ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ جنگلاتی آگ کا دھواں انتہائی باریک اور مضر ذرات پر مشتمل ہوتا ہے، جو سانس کے نظام کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس دھویں میں درختوں اور پودوں کے جلنے کے علاوہ پلاسٹک، دھاتوں اور رنگ و روغن کے جلنے سے پیدا ہونے والے مضر مادے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ فضا میں طویل فاصلے طے کرنے کے دوران کیمیائی تعاملات کے باعث اس دھویں کی زہریلا پن مزید بڑھ سکتا ہے۔