ميسي

'میسی نے سپین کی نمائندگی سے انکار کر کے تین ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع گنوا دیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین کی انڈر 21 ٹیم کے سابق کوچ خینیس میلینڈیز نے انکشاف کیا ہے کہ جیرارڈ پیکے اور سسک فابریگاس نے اپنی نوجوانی کے دور میں لیونل میسی کو ارجنٹینا کے بجائے سپین کی نمائندگی کرنے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

انہوں نے ہسپانوی اخبار ''آس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ بارسلونا کی یوتھ ٹیم کے کوچ الیکس گارسیا نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ لا ماسیا میں ابھرتے ہوئے میسی کو سپین کے لیے کھیلنے پر قائل کیا جائے۔

میلینڈیز نے یاد کرتے ہوئے کہا:الیکس ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے کہ ہمیں اس ارجنٹائنی لڑکے کو سپین کے لیے کھیلنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ میسی 1987 کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، جس میں جیرارڈ پیکے اور سسک فابریگاس بھی شامل تھے۔

اس وقت سپین کی یوتھ ٹیم میں بارسلونا کے آٹھ کھلاڑی موجود تھے، جنہوں نے بھی میسی کو قائل کرنے کی کوشش کی۔

میلینڈیز کے مطابق پیکے اور فابریگاس نے بھی اس سے بات کی تاکہ وہ ہمارے ساتھ کھیلنے پر راضی ہو جائے، لیکن وہ کبھی تیار نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب میسی 14 برس کے تھے اور سپین کی انڈر 16 چیمپئن شپ کے دوران ان سے دوبارہ درخواست کی گئی تو بھی انہوں نے واضح طور پر انکار کر دیا۔

میلینڈیز نے کہا:میں نے اس سے کہا، براہِ کرم ہمارے ساتھ کھیلیں، مگر اس نے کبھی اپنی رائے نہیں بدلی۔

بعد ازاں انہوں نے سابق ہسپانوی کوچ ویسینتے ڈیل بوسکے کا ایک دلچسپ تبصرہ بھی نقل کیا۔

ان کے مطابق ڈیل بوسکے نے کہا تھا:اگر تم میسی کو سپین کے لیے کھیلنے پر آمادہ کر لیتے تو ہم دو یا شاید تین مزید ورلڈ کپ جیت سکتے تھے۔

میسی نے بالآخر اپنے آبائی ملک ارجنٹینا کی نمائندگی کا انتخاب کیا اور اسی کے ساتھ 2022 کا فیفا ورلڈ کپ جیت کر اپنے کیریئر کا سب سے بڑا خواب پورا کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں