صورة لبيليه
گوگل نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے پیلے کا یادگار گول زندہ کر دیا
ساڑھے چھ دہائی قبل کیمرے کی آنکھ میں قید نہ ہونے والا گول اب ویڈیو کی شکل میں
عام طور پر فلم اور ٹیلی ویژن کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال متنازع رہا ہے تاہم گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’جیمینائی‘ کے ذریعے اس کے برعکس ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔
یہ تجربہ برازیل کے فٹ بال لیجنڈ پیلے کے سنہ 1959ء میں کیے گئے ایک گول سے متعلق ہے جسے ان کے کیریئر کا بہترین گول قرار دیا جاتا ہے۔ اس گول کو کرنے کے لیے پیلے نے مہارت سے محافظ کھلاڑیوں کو چکمہ دیا اور پھر گیند کو اپنے گھٹنے سے کنٹرول کرتے ہوئے گول کیپر کو شکست دی اور آخر میں ایک شاندار ہیڈر کے ساتھ گیند کو جال میں پہنچا دیا۔
ماجرا کیا ہے؟
ٹیکنالوجی کی خبروں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ڈیجیٹل ٹرینڈز کی رپورٹ کے مطابق یہ گول فٹ بال کی اعلیٰ سطح پر بھی انتہائی نایاب مناظر میں سے ایک ہے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ گول کبھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ نہیں ہو سکا تھا۔
اس وقت اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین اور کھلاڑیوں نے تو یہ گول دیکھا تھا مگر آج ان میں سے بہت کم لوگ حیات ہیں۔ اس گول کی واحد یادگار ایک پرانی تصویر ہے جو ہیڈر کے لمحے کو قید کرتی ہے۔ پیلے نے یہ گول دو اگست 1959ء کو ساو پالو کے روا جافاری اسٹیڈیم میں سانتوس اور یوفنتوس برازیل کے درمیان میچ کے دوران کیا تھا جب وہ صرف 18 برس کے تھے۔
گوگل نے کیسے کیا؟
اس یادگار گول کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے گوگل کی ٹیم نے ایسے افراد کے انٹرویو کیے جنہوں نے چھ دہائیاں قبل اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا اور ان کی مدد سے پیلے کی حرکتوں کی ترتیب کو دوبارہ تشکیل دیا۔ اس کے بعد اسٹیڈیم اور شائقین کی پرانی تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ایک خاکہ تیار کیا گیا۔
پھر گوگل کی ٹیم نے اسی اسٹیڈیم میں حقیقی انسانوں کے ذریعے اس منظر کو دوبارہ فلمایا۔ درستگی کو یقینی بنانے کے لیے اس دور کی بھاری چمڑے کی گیند، پیلے کے سیاہ جوتے اور کھلاڑیوں کی کٹ بھی ویسی ہی تیار کی گئی۔
اس کے بعد تمام ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے نظام میں داخل کیا گیا۔ گوگل نے جیمینائی اومنی ماڈل، نینو بنانا پرو اور ویڈیو انجن گوگل ویو کا استعمال کرتے ہوئے مناظر کو دوبارہ ترتیب دیا اور انہیں پرانی تاریخی تصاویر جیسا روپ دیا۔ اس عمل میں پیلے کا کردار ادا کرنے والے کھلاڑی کو ڈیجیٹل طور پر پیلے کے خدوخال سے بدل دیا گیا اور اسٹیڈیم کو بھی سنہ 1959ء کی حالت میں دوبارہ تخلیق کیا گیا۔
ایک کھویا ہوا کارنامہ دوبارہ زندہ
گوگل نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ مناظر کو درست دکھانے کے لیے ڈیجیٹل آؤٹ پٹ کو ایک مخصوص ڈیوائس سے گزارا گیا تاکہ اسے سنہ 1950ء کی دہائی کی فلم جیسا تاثر دیا جا سکے۔ یہ ایک انتہائی محنت طلب کام تھا لیکن حتمی نتیجہ حیران کن ہے۔ پیلے کے اس افسانوی گول کو پہلی بار ویڈیو میں دیکھنا ایک ناقابل یقین تجربہ ہے۔
اس پروجیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے پیلے کے خاندان کی منظوری کے ساتھ فٹ بالرز، شائقین اور مؤرخین کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ پیلے کی بیٹی نے کہا کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر بہت فخر محسوس کرتے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ کتنا افسوس ہے کہ یہ گول ویڈیو میں ریکارڈ نہیں ہو سکا۔ اس لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے واپس لانا ایک شاندار کارنامہ ہے۔