أدولف هتلر أثناء تفقده للقوات الألمانية ببولندا
ہٹلر کی کتاب ''میری جدوجہد ''کی اشاعت کو 101 سال مکمل، لاکھوں نسخوں کا سفر
101 سال قبل یعنی 18 جولائی 1925 کو نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کی کتاب ''میری جدوجہد'' (Mein Kampf) شائع ہوئی، جو بعد ازاں 20ویں صدی کی سب سے زیادہ گردش کرنے والی سیاسی کتابوں میں شامل ہو گئی۔
اس کتاب کی فروخت اور تقسیم شدہ کاپیوں کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کتاب کو نازی حکومت کے لیے ایک اہم پروپیگنڈا آلے کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے اس کی مقبولیت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔
جیل سے آغاز
اس کتاب کی کہانی اس وقت شروع ہوئی، جب ایڈولف ہٹلر نے جرمنی میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی، جسے ''بایرن انقلاب'' (Beer Hall Putsch) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ بغاوت 8 اور 9 نومبر 1923 کو ہوئی تھی۔
یہ کوشش ایسے وقت میں کی گئی، جب پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے تقریباً پانچ سال بعد جرمنی شدید اقتصادی اور سیاسی بحران سے گزر رہا تھا۔
ملک کو شدید مہنگائی، قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور بے روزگاری کا سامنا تھا، جبکہ معاہدۂ ورسائے کے اثرات بھی موجود تھے، جس کے تحت جرمنی پر بھاری مالی جرمانے اور فاتح ممالک کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی تھیں۔
ان حالات میں کئی انتہا پسند سیاسی جماعتیں اور تحریکیں ابھرنے لگیں، جن میں ایڈولف ہٹلر کی قیادت والی نازی پارٹی نمایاں تھی۔
ناکام بغاوت کے بعد ہٹلر کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں اس کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جس نے جرمنی کے ایک طبقے میں اس کی شہرت بڑھانے اور اس کی سیاسی شناخت مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔
اپریل 1924 کے آغاز میں عدالت نے ہٹلر کو پانچ سال قید کی سزا سنائی، تاہم اسے نو ماہ بعد مشروط رہائی کی اجازت بھی دے دی گئی۔
جیل کے اندر
اپریل سے دسمبر 1924 کے دوران لینڈزبرگ جیل (Landsberg) میں قید رہتے ہوئے ہٹلر نے کتاب ''میری جدوجہد'' (Mein Kampf) لکھنا شروع کی۔
اس نے کتاب کا متن اپنے سیکریٹری رُڈولف ہیس (Rudolf Hess) کو زبانی طور پر لکھوایا، جو اس وقت نازی پارٹی کی اہم قیادت میں شامل تھا، جبکہ تحریر کا کام ہیس نے انجام دیا۔
ابتدا میں ہٹلر نے کتاب کے لیے ایک طویل عنوان منتخب کیا تھا: جھوٹ، حماقت اور بزدلی کے خلاف چار سالہ جدوجہد۔ تاہم ناشر نے اسے بہت طویل قرار دیا اور ہٹلر سے مشاورت کے بعد صرف ''میری جدوجہد'''کا مختصر عنوان رکھنے کی تجویز دی۔
اس کتاب میں ہٹلر کی زندگی کے کچھ حصے، اس کے سیاسی نظریات اور نظریاتی خیالات شامل تھے۔ یہ کتاب پہلی بار 18 جولائی 1925 کو شائع ہوئی، یعنی آج سے 101 سال قبل۔
فروخت میں زبردست اضافہ
ابتدائی برسوں میں ''میری جدوجہد'''کو کوئی بڑی تجارتی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کتاب کی مانگ زیادہ تر نازی پارٹی کے حامیوں اور ہٹلر کے نظریات کے کچھ مخالفین تک محدود رہی۔
تاہم 1933 میں ہٹلر کے جرمنی کا چانسلر بننے کے بعد صورتحال بڑی حد تک بدل گئی۔ کتاب کی فروخت تیزی سے بڑھنے لگی اور یہ نازی حکومت کے اہم ترین پروپیگنڈا ذرائع میں شامل ہو گئی۔
1930 کی دہائی کے وسط سے جرمن حکام نے ہر نئے شادی شدہ جوڑے کو اس کتاب کی ایک کاپی دینا شروع کر دی۔ اسی طرح اساتذہ اور ''ہٹلر یوتھ'' تنظیم کے عہدیدار بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ وہ یہ کتاب خریدیں اور پڑھیں۔
اس کے علاوہ ریاستی اداروں کے ملازمین اور کارکنوں کو بھی اس کی مفت کاپیاں دی گئیں، جبکہ جرمنی کے بعض صنعت کاروں کو بھی یہ کتاب بطور تحفہ پیش کی گئی۔
عالمی سطح پر پھیلاؤ
''میری جدوجہد'' کی اشاعت صرف جرمنی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہٹلر نے اسے بیرونِ ملک بھی پھیلانے کی کوشش کی۔
1933 میں اس کتاب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جا سکے، جبکہ بعد میں اس کے کئی ترمیم شدہ نسخے بھی سامنے آئے۔
ہٹلر نے یہ کتاب کئی سیاست دانوں اور سفارت کاروں کو تحفے کے طور پر بھی پیش کی، جن میں اٹلی کے آمر بینیٹو مسولینی، اسپین کے آمر فرانسسکو فرانکو اور جرمنی میں تعینات متعدد غیر ملکی سفیر اور سفارت کار شامل تھے۔
1925 سے 1945 کے درمیان ''میری جدوجہد'' کی فروخت یا تقسیم شدہ کاپیوں کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
اشاعتی حقوق
1945 میں ایڈولف ہٹلر کی خودکشی کے بعد ''میری جدوجہد ''کے اشاعتی حقوق جرمنی کی ریاست بایرن کو منتقل ہو گئے، جہاں یہ حقوق مصنف کی وفات کے بعد نافذ کاپی رائٹ قوانین کے تحت 70 سال تک برقرار رہے۔
2015 کے اختتام پر قانونی تحفظ کی مدت ختم ہو گئی، جس کے بعد کتاب کے اشاعتی حقوق عوامی ملکیت (Public Domain) میں شامل ہو گئے۔
اس کے نتیجے میں کئی ممالک میں اسے دوبارہ شائع کرنے کی اجازت مل گئی، تاہم اس کے تاریخی اور نظریاتی اثرات کے حوالے سے وسیع بحث جاری رہی۔