زارا کے نئے چوڑی ٹانگوں والی پتلون نے بڑے پیمانے پر تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

موت کی پتلون نئی پینٹ نے سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا کر دیا:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زارا کی نئی چوڑی پائنچوں والی پینٹ نے سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ فیشن کے شوقین افراد نے اسے طنزیہ انداز میں ''موت کی پتلون'' کا نام دیا ہے، کیونکہ اس کی غیر معمولی لمبائی اور حد سے زیادہ چوڑا ڈیزائن چلتے ہوئے ٹھوکر لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔غیر معمولی نام کے باوجود یہ پینٹ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فیشن سے دلچسپی رکھنے والے افراد اسے پہن کر اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ڈیزائن موجودہ فیشن ٹرینڈ کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں ڈھیلے ڈھالے اور آرام دہ لباس کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس پینٹ کی خاص بات اس کا انتہائی چوڑا کٹ ہے، جو اتنا لمبا ہے کہ جوتوں کا بڑا حصہ بھی ڈھانپ لیتا ہے۔ اگرچہ یہ انداز جدید اور منفرد دکھائی دیتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ روزمرہ استعمال کے لیے غیر عملی ہے، خاص طور پر سیڑھیاں چڑھتے یا سڑک پر چلتے وقت۔سوشل میڈیا پر ایسی متعدد تصاویر اور ویڈیوز بھی وائرل ہو چکی ہیں، جن میں لوگ اس پینٹ کی وجہ سے چلتے ہوئے ٹھوکر کھاتے یا گر جاتے ہیں، جبکہ بعض افراد کو گرنے کے باعث معمولی خراشیں اور چوٹیں بھی آئیں۔

زارا کے نئے چوڑی ٹانگوں والی پتلون نے بڑے پیمانے پر تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

اگرچہ انٹرنیٹ پر اس پینٹ کے بارے میں طنزیہ انداز میں خبردار کیا جا رہا ہے، تاہم فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی تنازع اس کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بن گیا ہے۔

ان کے مطابق ''موت کی پتلون'' کا لقب بھی اس کی غیر ارادی تشہیری مہم کا حصہ بن چکا ہے۔یہ ڈیزائن اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں غیر معمولی اور حد سے زیادہ ڈھیلے لباس کو ترجیح دی جا رہی ہے، چاہے اس کے بدلے عملی سہولت یا آرام میں کچھ کمی ہی کیوں نہ آئے۔

بہت سے فیشن شائقین کے لیے لگتا ہے کہ سیزن کے جدید ترین فیشن سے محروم رہنے کے مقابلے میں ٹھوکر کھانے کا خطرہ بھی قابلِ قبول ہے، یہی وجہ ہے کہ تنقید کے باوجود اس پینٹ کی مقبولیت برقرار ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں