پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار 20 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں آمد پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (وزارتِ امورِ خارجہ/ایکس)
تقریباً 20 سال بعد کینیڈین وزیرِ خارجہ کا دورہ، پاکستان روابط کو مزید فروغ دینے کا خواہاں
تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی پیش رفت اور دفاعی تعلقات زیرِ بحث آئے
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے پیر کو کہا ہے کہ اسلام آباد اور اوٹاوا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں روابط بہتر کرنے کی "خاصی گنجائش" موجود ہے۔ کینیڈا کی انیتا آنند اسلام آباد پہنچی ہیں جو تقریباً 20 سالوں میں ملک کے کسی وزیرِ خارجہ کا پاکستان کا اولین سرکاری دورہ ہے۔ وہ ڈار کی دعوت پر پاکستان پہنچیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی تھی کہ آنند اور پاکستانی حکام کے درمیان گفتگو تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوام کے درمیان تبادلے میں تعاون مضبوط بنانے پر مرکوز ہو گی اور فریقین علاقائی پیش رفت پر بھی بات کریں گے۔
یہ دورہ اس لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آخری بار کینیڈا کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ پیٹر میکے نے افغانستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جنوری 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
دونوں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل ڈار نے اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں آنند کا استقبال کیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ ایک "طویل وقفے" کے بعد پاکستان آئیں اور دونوں ممالک پر ایک دوسرے سے روابط مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈار نے کہا، "میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سلامتی کے حوالے سے اپنے دوطرفہ روابط بڑھانے کی صلاحیت اور امکانات ہیں۔ تو خاصی گنجائش ہے۔"
آنند نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی امید کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا، "تقریباً 20 سالوں میں کینیڈا کے کسی وزیرِ خارجہ کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا 80 واں سال ہے۔"
آنند نے کہا، دونوں ممالک کے پاس "مل کر کرنے کے لیے مزید کام" ہے تاکہ زراعت، زرعی خوراک، مینوفیکچرنگ اور دیگر اہم اقتصادی شعبوں میں مضبوط باہمی تعلقات کو یقینی بنایا جائے۔
نیز کہا، "اس لیے میں آج تک ہونے والی پیشرفت پر تبادلۂ خیال کرنے کی منتظر ہوں اور کینیڈا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی بھی منتظر ہوں۔"
جیسا کہ امریکہ اور ایران خطے میں حملوں کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تو آنند پاکستانی رہنماؤں سے علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کریں گی۔
پاکستان کے کینیڈا سے 1947 سے خوشگوار تعلقات ہیں۔ دونوں کی دوطرفہ تجارت 2025 میں 1.2 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی اور دونوں میں زرعی خوراک، مینوفیکچرنگ اور اشیاء ضرور کے شعبوں میں قریبی تعاون ہے۔ کینیڈا میں 300,000 سے زیادہ پاکستانی شہری بھی آباد ہیں۔
ریکوڈک گولڈ کاپر منصوبہ بھی دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پاکستان کا غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو کینیڈین کان کنی کمپنی بیرک گولڈ کو دیا گیا ہے۔ کمپنی اس سلسلے میں پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ہمراہ کام کر رہی ہے۔