ایران کا ایک بہت بڑا جھنڈا ایک عمارت کے اگلے حصے پر لہرایا ہوا دیکھا جا رہا ہے جب سوگواروں کا ہجوم مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کے جنازے میں شرکت کر رہا ہے، اس سے پہلے کہ وہ مشہد میں، ایران کی سب سے قابل احترام عبادت گاہ، امام رضا کے مزار پر دفن ہوں، 9 جولائی، 2026 (اے ایف پی)
فریقین تحمل سے کام لیں، ایرانی جوہری بجلی گھر پر حملے کے بعد رافیل گروسی کا مطالبہ
بین الاقوامی جوہری واچ ڈاگ ادارے 'آئی اے ای اے' نے زور دیا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔ بین الاقوامی واچ ڈاگ کا یہ مطالبہ اتوار کے روز اس وقت سامنے آیا ہے۔ جب ایرانی جوہری ادارے نے نئے امریکی حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایک زیر تعمیر جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی حملے ایران کے جنوب مغربی علاقے میں کیے گئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تبدلہ حالیہ جنگ بندی کے باوجود جولائی کے دوسرے ہفتے سے بڑھ جانے والی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ تب سے دونوں ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں مصروف ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئے حملوں کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز کیے گئے امریکی حملے اردن میں ایرانی میزائل حملے سے ہلاک کیے گئے دو امریکی فوجیوں کے لیے انتقام کے طور پر تھے۔ ایرانی حملے سے دو امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں جمعہ کے روز ہوئی تھیں۔
جوہری توانائی کے ایرانی ادارے نے کہا امریکی فوجوں نے وحشیانہ جارحیت کی ہے اور جوہری توانائی کے زیر تعمیر بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے۔ بین الاقوامی جوہری واچ ڈاگ ادارے کے مطابق یہ زیر تعمیر بجلی گھر ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں تھا۔
تاہم رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے کوئی تابکاری اثرات پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے فریقین سے تحمل اختیار کرنےکا کہا۔ گروسی کا یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر سامنے آیا ہے۔