امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے احترام میں امریکہ نے ایران پر بھرپور حملہ کیا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایران میں حالیہ حملے خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے۔
فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، وہ عظیم لوگ، وہ سچے محبِ وطن، وہاں اس لیے لڑ رہے تھے تاکہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ہم نے آج رات ایک بار پھر ایران پر بھرپور حملہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اعزاز اور خراجِ عقیدت کے طور پر کیے گئے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس تنازع میں بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا:ایران تقریباً اپنی تمام فوجی صلاحیت کھو چکا ہے۔ ان کے پاس اب بہت کم وسائل بچے ہیں۔ ان کے پاس چند میزائل، کچھ ڈرون اور محدود پیداواری صلاحیت باقی ہے، جو زیادہ اہم نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا:ہم آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہے ہیں، ایران کسی چیز پر قابض نہیں، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کی شب کہا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو دنیا پر دباؤ ڈالنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔فلپائن روانگی سے قبل جہاں وہ آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:واضح طور پر ایران، یا کم از کم وہاں موجود بعض عناصر، آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرکے اسے دنیا پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا، تاہم دیگر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ اس ذمہ داری میں حصہ ڈالیں اور سازوسامان یا مالی تعاون فراہم کریں۔
سفارتی حل کے امکان سے متعلق سوال پر مارکو روبیو نے کہا:امریکہ ہمیشہ سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن یہ عمل حقیقی ہونا چاہیے اور ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کی ایران پابندی کرے۔
روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا رہا تو وہ برقرار نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے مزید کہا:امریکہ سفارتی حل کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے، ہم نے ایران کے ساتھ کئی بار کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔