تصاویر کے اس امتزاج میں بنگلہ دیشی پاسپورٹ دکھایا گیا ہے جس میں یہ شق ہے، 'یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے۔' (AN Photo)
بنگلہ دیشی پاسپورٹ : سوائے اسرائیل کے ہر ملک جانے کے لیے کار آمد
حسینہ واجد کا اسرائیل نواز فیصلہ ختم
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعطم حسینہ واجد کے دور حکومت میں اسرائیل کے حق میں کیا گیا اقدام 'ریورس' کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے بنگلہ دیش کے پاسپورٹ پر یہ یہ دوبارہ تحریر کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیشی پاسپورٹ کی بنیاد پر سوائے اسرائیل کے ہر ملک کا سفر کیا جاسکے گا۔
یہ فیصلہ وزیر اعظم طارق رحمان کے زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔ نئے پاسپورٹ کی طباعت کا کام امکانی طور پر ماہ اکتوبر سے پہلے مکمل کر لیا جائے اور اکتوبر سے بنگلہ دیشی عوام کو نیا پاسپورٹ دستیاب ہو جائے گا۔
بنگلہ دیشی وزارت داخلہ نے یہ اعلان پیر کے روز کیا ہے۔ اس سے قبل بھی بنگلہ دیش کے قیام سے اسی سفارتی روایت کو جاری رکھا گیا تھا اور پاکستان کے پاسپورٹ کی طرح بنگلہ دیش کے پاسپورٹ پر بھی یہ نمایاں تحریر تھا کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ہر ملک میں جانے کے لیے استعمال ہو سکے گا۔ لیکن حسینہ واجد نے 2021 میں یہ عبارت ختم کر دی تھی۔
حسینہ واجد 2024 میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں اور اب مودی سرکار کی وجہ سے بھارت میں ہی سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ایک عبوری حکومت کے بعد فروری میں بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہوئے اور طارق رحمان اب وزیر اعظم بن چکے ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بنگلہ دیش ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے پیر کے روز بتایا ہے کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق نیا پاسپورٹ ایک بار پھر اس عبارت کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کٓے ہر ملک جانے کے لیے کارآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا توقع ہے کہ نیا پاسپورٹ اکتوبر میں چھپ کر عوام کو دستیاب ہو جائے گا۔
بنگلہ دیش کی حکومت کا یہ فیصلہ بنگلہ دیشی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرے گا۔ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے مزید کہا 'یہ تبدیلی حکومت کی سیاسی منشا کا اظہارہے۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں اور یہ بات دنیا کو بھی بتانا چاہتے ہیں۔'