روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیاں (علامتی تصویر - آئی اسٹاک)
یورپی یونین نے روس کے خلاف پابندیوں کے 21 ویں پیکج کی توثیق کر دی
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیئر لائن کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمت کی حد کو منجمد کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ روس مارکیٹ کے جھٹکوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے
یورپی یونین نے روس کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے پیکج کی منظوری دی ہے۔ یہ 2022 میں یوکرین پر ماسکو کی جانب سے مکمل چڑھائی کے بعد پابندیوں کا 21 واں پیکج ہے۔
یورپی یونین کے ایک سفارت کار نے بتایا کہ تنظیم کے سفیروں نے آج جمعرات کے روز ان نئے اقدامات کی توثیق کر دی ہے، جنہیں 27 رکن ممالک کی جانب سے با ضابطہ منظوری کی ضرورت باقی ہے۔
جرمن خبر رساں ایجنسی (ڈی پی اے) کے مطابق اس پیکج میں روس کے مالیاتی اور توانائی کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
سفارت کار نے مزید کہا کہ نئے اقدامات کے تحت روسی فوسل فیول کی آمدنی کو محدود کرنے کی کوشش میں روسی تیل کی برآمدات کے لیے بین الاقوامی قیمت کی حد کی خود کار ترمیم کو بارہ ماہ کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔
تیل کی قیمت کی حد کا اطلاق اس روسی تیل پر ہوتا ہے جو یورپی یونین کے غیر رکن ممالک جیسے بھارت، چین اور ترکیہ کو فروخت کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے "روئٹرز" کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیئرلان نے آج جمعرات کے روز کہا کہ روسی تیل کی قیمت کی حد کی ترمیم کو ایک سال کے لیے منجمد کرنا - جو کہ یورپی یونین کے 21 ویں پابندیوں کے پیکج کا حصہ ہے جس کی آج منظوری دی گئی - اس بات کو یقینی بنائے گا کہ "روسی جنگی مشین مارکیٹ کے جھٹکوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پیکج میں یورپی یونین کی لین دین کی پابندی کی فہرست میں 32 روسی بینکوں، کرپٹو کرنسی کمپنی اور تیل کی تجارت کے پلیٹ فارمز کا اضافہ بھی شامل ہے۔ یہ روس کے "شیڈو فلیٹ" کو تعاون فراہم کرنے والے جہازوں کو نشانہ بناتا ہے، نیز یورپی یونین میں روسی جنگجوؤں کے داخلے پر با ضابطہ پابندی کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔