US President Donald Trump holds a signed executive order on tariffs, in the Rose Garden at the White House in Washington, DC, April 2, 2025. (Reuters)

’جبری مشقت‘ کے خدشات، امریکہ کے 60 ممالک بشمول پاکستان پر نئے ٹیرف نافذ

دس تا 12.5 فیصد ٹیرف کا نفاذ، بعض ممالک کا فوری احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ نے پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیا پر دس سے 12.5 فیصد کے نئے محصولات کا انکشاف کیا ہے کیونکہ وہ "جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی لگانے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں،" ایک امریکی تجارتی نمائندے نے جمعرات کو کہا جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہو رہی ہے۔

نئے محصولات امریکی درآمدات کے 99.4 فیصد کا احاطہ کریں گے لیکن اس میں تیل اور گیس، کھاد اور بعض خوردنی اشیاء جیسی متعدد مصنوعات کے لیے اشتثنیٰ شامل ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 11 جولائی کو کہا تھا کہ واشنگٹن میں دونوں ممالک کے تازہ مذاکرات کے دوران باہمی تجارتی معاہدے کی طرف پیش رفت ہوئی تھی۔ یہ تنازعہ گذشتہ سال اپریل میں شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی اقدامات کے وسیع پیکیج کے تحت پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف لگانے کے لیے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کی درخواست کی تھی۔ اسے بعد میں کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا۔

امریکی تجارتی نمائندہ سفیر جیمیسن گریر نے ایک بیان میں کہا، "امریکہ نے تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اسے سختی سے نافذ کر رہا ہے؛ ہمارے تجارتی شراکت داروں کے لیے وقت گذر چکا ہے کہ ایسا کریں۔"

نیز کہا، "آج کی کارروائی ہر جگہ کے کارکنان کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے اس بات کی درستی کا آغاز ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے اور تحریف آمیز تجارتی مشق بھی۔ جن تجارتی شراکت داروں نے جبری مشقت کی درآمد پر پابندیاں اپنانے کے لیے تیزی سے اقدام کیے ہیں اور ان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے منتظر ہیں، مجھے ان کی طرف سے امید ملی ہے۔"

ٹرمپ نے فروری میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا جواب دیتے ہوئے 150 دنوں کے لیے عارضی 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا تھا جو شمالی امریکی وقت پر جمعے کی صبح 12:01 بجے ختم ہو گیا ہے۔ نئی ڈیوٹی بالکل اسی لمحے سے نافذ ہوں گی اور جو سامان بیرونِ ملک روانہ ہو چکا ہے، وہ 28 جولائی کو شمالی امریکی وقت کے مطابق صبح 12:01 تک مستثنیٰ ہیں۔

حتمی فیصلے کے تحت امریکہ ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرے گا۔

یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کو شرحیں تفویض کی گئیں جو کہ پہلے سے موجود پسندیدہ ترین ملک کی شرحوں کے ساتھ مل کر کُل 10 فیصد یا 12.5 فیصد ہوں گی۔ دیگر 38 ممالک کو 12.5 فیصد شرح تفویض کی گئی تھی۔ ان میں چین بھی شامل ہے جس پر امریکہ نے اویغور اقلیتوں کو کام کے کیمپوں میں حراست میں رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ بیجنگ اس کی تردید کرتا ہے۔

اس کارروائی پر بعض ممالک نے فوری احتجاج کیا۔

ناروے کے وزیرِ خارجہ Espen Barth Eide نے کہا، "ناروے کے خلاف یہ ٹیرف بے بنیاد اور بلاجواز ہے کیونکہ ہمارے پاس پہلے سے ہی واضح قوانین موجود ہیں جن کا مقصد جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیاء کی تجارت روکنا ہے۔"

آسٹریلیا اور برازیل نے نئے محصولات کو بلاجواز قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ انہیں ہٹوانے کی کوشش کریں گے جبکہ کینیڈا نے "یکطرفہ" محصولات پر خاموش ردِ عمل جاری کیا۔

کینیڈا کے امریکی تجارت کے انچارج وزیر ڈومینک لی بلینک نے کہا، "ہم اپنے شہریوں کے باہمی فائدے کے لیے آئندہ ہفتوں کے دوران اس معاملے نیز دیگر مسائل پر امریکہ سے تعمیری گفتگو جاری رکھیں گے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں