امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
’ ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت موقف اپنانے کا رجحان ،ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کو پاگل قرار دیا
امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کے مؤثر ہونے کے بارے میں زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ ایک سخت ترین لائحہ عمل اپنانے کی طرف مائل ہیں جس میں تہران کے خلاف فوجی حملے جاری رکھنا بھی شامل ہے۔
اخبار نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے حال ہی میں اوول آفس میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران ایرانی رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور انہیں ’پاگل‘ قرار دیا جبکہ یہ مؤقف اپنایا کہ ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔
اہلکار نے مزید کہا کہ ٹرمپ خود کو ایران سے بدلہ لینے کی حالت میں دیکھتے ہیں اور وہ فوجی حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے علاوہ کسی بہتر آپشن کے قائل نہیں ہیں۔
اخبار نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگ نے ٹرمپ اور ان کے کئی اعلیٰ مشیروں پر ذاتی نوعیت کے اثرات مرتب کیے ہیں کیونکہ ایرانیوں کی طرف سے انہیں قتل کرنے کی دھمکیوں کے بارے میں انٹیلی جنس وارننگز موصول ہو رہی ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
جیرڈ کشنر اور وٹکوف اب بھی پرامید
دوسری جانب دو امریکی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ جیرڈ کشنر اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اب بھی سفارتی راستے کے کمزور ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے امکان کے بارے میں پرامید ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام )نے ایران کے اندر اہداف کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کی لگاتار تیرہویں رات مکمل ہونے کا اعلان کیا جو کہ ایک ایسی مہم کا حصہ ہے جسے واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے تہران کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ حملوں کی یہ لہر دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک بیان میں اطلاع دی کہ امریکی فورسز نے گذشتہ شام چھ بج کر بیالیس منٹ ایرانی فوجی اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی رات کا آغاز کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کا محاسبہ کرنا اور تجارتی جہاز رانی کی نقل و حرکت کے لیے پاسداران انقلاب کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرات کو محدود کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بار پھر کہا کہ یہ حملے سویلین ملاحوں اور علاقائی پانیوں کو پار کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جبکہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بین الاقوامی نیوی گیشن کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔