This photo shows a cannabis plant. (Reuters)
ترکیہ: ایک مشہور ڈائریکٹر اور ان کے بھائی کی منشیات کیس میں گرفتاری
صوبہ بورصہ کے ضلع انیگول میں گھر کے اندر بھنگ کا فارم پکڑے جانے کے بعد اقدام کیا گیا
ترکیہ کی پولیس فورس (جندرما فورسز) نے صوبہ بورصہ کے ضلع انیگول میں کی جانے والی منشیات مخالف کارروائی کے دوران مشہور ڈائریکٹر ایزیل اکائے اور ان کے بھائی، موسیقی کار ایرین کاظم اکائے کو ڈائریکٹر کے گھر کے اندر بھنگ کے پودے اگانے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ملنے کے بعد گرفتار کر لیا۔
ترکیہ کے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ بورصہ جندرما کمانڈ کی منشیات مخالف ٹیموں نے گھر میں بھنگ اگانے کی اطلاع ملنے پر تحقیقات شروع کیں۔ اس کے بعد انہوں نے پبلک پراسیکیوشن کی نگرانی میں چھاپہ مارا۔ بھنگ کے 21 پودے برآمد ہوئے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں مخصوص سامان کے ذریعے اگایا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ 1131 کلوگرام خشک ماریوانا بھی برآمد ہوا۔ تمام ضبط شدہ سامان کو تحویل میں لے کر تفصیلی معائنے کے لیے فرانزک لیبارٹریز بھیج دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی معائنے سے معلوم ہوا کہ گھر بھنگ اگانے کے جدید ترین نظام سے لیس تھا جس میں الٹراوائلٹ لیمپ، وینٹیلیشن سسٹمز اور درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے والے آلات شامل تھے جو گھر کے متعدد کمروں بشمول باتھ روم میں پھیلے ہوئے تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے گھر کو مکمل بھنگ کے فارم میں تبدیل کرنے سے تعبیر کیا ہے۔
اسی طرح جندرما فورسز نے منشیات سونگھنے والے ایک ماہر پولیس کتے کی مدد لی جو منشیات سے بھرے وہ تھیلے ڈھونڈنے میں کامیاب رہا جو ڈائریکٹر کی ڈیسک کے درازوں اور گھر کے مختلف حصوں میں موجود الماریوں میں چھپائے گئے تھے۔ تلاشی کی کارروائی ختم ہونے کے بعد حکام نے ایزیل اکائے اور ان کے بھائی کو حراست میں لے لیا اور تحقیقات مکمل کرنے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے جندرما مرکز منتقل کر دیا۔ اس کے بعد انہیں انیگول کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا تاکہ خون اور بالوں کے نمونے لیے جا سکیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا انہوں نے منشیات کا استعمال کیا تھا یا نہیں۔ یہ اس طرح کے کیسز میں معمول کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔
ہسپتال میں داخل ہوتے وقت ایزیل اکائے نے صحافیوں کی طرف سے تصویریں بنانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ تصویریں کیوں لے رہے ہیں؟ حکام نے کہا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن کی نگرانی میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
مشہور شخصیات کے خلاف مہم
یہ کیس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ کے حکام منشیات کے جرائم کے خلاف اپنی مہمات میں شدت لانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مہمیں اب صرف سمگلنگ اور فروخت کرنے والے نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہیں بلکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران فن، میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی معروف شخصیات تک پھیل چکی ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران حکام نے منشیات کے استعمال، اسے پاس رکھنے اور اس کی تشہیر سے متعلق کیسز میں متعدد فنکاروں اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کو حراست میں لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد منشیات کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنا اور خاص طور پر نوجوانوں میں اس کے استعمال کو روکنا ہے۔
ترکیہ نے حالیہ برسوں کے دوران منشیات سے متعلق کیسز میں اداکاروں، گلوکاروں اور سوشل میڈیا مواد تخلیق کرنے والوں سے متعلق تحقیقات دیکھیں۔ ترکیہ کی وزارت داخلہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسدادی مہمات بغیر کسی تفریق کے چلائی جاتی ہیں اور ان میں تمام مشکوک افراد شامل ہیں۔ ان مہموں میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مشکوک افراد کی شہرت یا سماجی حیثیت کیا ہے۔
ایزیل اکائے کے کیس نے ترکیہ کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا سائٹس پر فن سے وابستہ حلقوں میں ان کے مقام اور ان کے گھر سے برآمد ہونے والی مقدار کی وجہ سے وسیع توجہ حاصل کی۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری کے لیے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔