2026-07-19T193216Z_1454732593_RC27HMAX9JOQ_RTRMADP_3_EUROPE-WEATHER-FRANCE-WILDFIRE

فرانس میں آگ کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی… بورڈو سے ہزاروں افراد کا انخلا، فوج تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی حکام نے ہفتے کے روز بھی ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں جنگلاتی آگ پر قابو پانے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلا کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ فائر فائٹرز کی مدد کے لیے فرانسیسی فوج کے دستے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔متاثرہ علاقوں سے نکالے جانے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 41 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور خشک سالی کی صورتحال مزید برقرار رہ سکتی ہے۔

بورڈو کے گرد بڑے پیمانے پر انخلا

فرانسیسی حکام نے شہر بورڈو کے قریب واقع مضافاتی علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، کیونکہ شہر کے اطراف جنگلاتی آگ میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

نوفیل-اکیتین اور جیروند خطے کی مقامی انتظامیہ کی سربراہ صوفی بروکا نے بتایا کہ انخلا کی کارروائیاں لوايون، ایزین اور میرینیاک کے علاقوں میں کی گئیں، جہاں آگ مسلسل پھیل رہی ہے۔

بورڈو پر مشتمل علاقے جیروند کے گورنر نے مغربی مضافاتی علاقوں کے تین حصوں کے کچھ علاقوں سے فوری انخلا کا حکم جاری کیا، جن میں بورڈو ایئرپورٹ کے اطراف کا علاقہ بھی شامل ہے۔

مقامی حکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فائر فائٹرز کی جانب سے بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کرنے کے باوجود آگ کا پھیلاؤ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کی حفاظت کے لیے خطرے سے دوچار علاقوں کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

فوج تعینات

فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹیان لوکورنو نے کہا ہے کہ اب تک ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد افراد کو جیروند اور لوند کے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جہاں گزشتہ ہفتے جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی تھی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ:ہمارے ملک کو لپیٹ میں لینے والی آگ بے مثال شدت اختیار کر چکی ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ آگ بجھانے کی کارروائیوں میں ہنگامی امدادی ٹیموں کے ساتھ تعاون کے لیے فرانسیسی فوج کے دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

جنگلات اور گھروں کو نگلتی آگ

فرانسیسی حکام نے جمعہ کے روز کیپ فیری (Cap Ferret) جزیرہ نما کو مکمل طور پر خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔ یہ بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع ایک مشہور سیاحتی مقام ہے، جہاں سے دسیوں ہزار مقامی افراد اور سیاح گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی طرف روانہ ہوئے۔

حکام نے انخلا کے عمل میں مدد کے لیے کشتیاں بھی روانہ کیں، جبکہ تقریباً 63 ہزار افراد، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، کو اپنے گھروں اور کیمپنگ مقامات سے نکلنے کے احکامات دیے گئے۔آگ نے 10 ہزار ہیکٹر سے زائد جنگلات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

پیسکاروس (Biscarrosse) شہر کے ایک رہائشی یوان یوریان نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے علاقہ چھوڑنے کا حکم دینے سے پہلے انہوں نے اپنے گھر سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے گھنے بادل دیکھے۔

انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی صدمہ پہنچانے والا واقعہ مقرار دیا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ لوران نونیز نے بتایا کہ سومو (Soustons/سومو) کے قریب لگی ایک بڑی آگ سے خدشہ تھا کہ وہ کیپ فیری جزیرہ نما سے نکلنے کے واحد راستے کو بند کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگ نے 10 ہزار ہیکٹر سے زیادہ جنگلات تباہ کر دیے جبکہ تقریباً 80 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے قریب 50 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

غیر معمولی گرمی کی لہر

موسمیاتی ادارے ''رائٹرز کلائمیٹ آبزرویٹری'' کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں اب تک اکیتین (Aquitaine) خطے میں اوسط درجہ حرارت 32اعشاریہ2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 1961 سے 1990 کے دوران اس عرصے کے معمول کے زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ حرارت سے 7اعشاریہ3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال جنگلاتی آگ نے یورپ میں اوسط سے زیادہ رقبہ اپنی لپیٹ میں لیا ہے، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں کے سالانہ اوسط کے مقابلے میں تباہ شدہ رقبہ کہیں زیادہ ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب دنیا کے سب سے تیزی سے گرم ہونے والے براعظم یورپ کو رواں سال کے آغاز سے اب تک شدید گرمی کی تین مسلسل لہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں