The flags of the US and Brazil. (Illustration)
برازیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو اہلکاروں کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی ہیں جنہوں نے ملک کے انتخابی نظام کی سالمیت پر شکوک پیدا کرنے کے لیے وہاں کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، اس معاملے سے واقف دو برازیلی حکام نے ہفتے کے روز خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا۔
حکام نے معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکی منصوبہ برازیل کے اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو متأثر کرنے کی کوشش کی نمائندگی کرتا ہے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کا مقابلہ دائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے سینیٹر فلاویو بولسونارو سے ہو گا۔ یہ ٹرمپ کے اتحادی اور سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں جو لولا سے گذشتہ الیکشن ہار گئے تھے۔
برازیل نے جمعے کے روز امریکی وفد کو ویزا دینے کی درخواست مسترد کر دی جس میں محکمہ خارجہ کے بیورو آف ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر کے اسسٹنٹ سیکریٹری ریلی ایم بارنس اور ایک ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری سیموئیل سیمسن کو شامل ہونا تھا۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ ویزے سے انکار ایسے شواہد کی بنیاد پر کیا گیا جو "صورتِ حال کا سیاسی فائدہ اٹھانے اور انتخابی نظام کو کمزور کرنے کی ایک نئی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہیں"۔
بعد ازاں ہفتے کے روز امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بارنس اور سیمسن سرکاری حکام، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے 27 سے 30 جولائی تک برازیلیا کا دورہ کریں گے کریں گے تاکہ انتخابی سالمیت، مذہبی آزادی اور آزادی اظہار پر گفتگو کی جائے۔
ترجمان نے برازیل کے انتخابات کو نقصان پہنچانے کے لیے "داؤ پیچ" کا کوئی بھی امکان مسترد کر دیا، ایسے دعووں کو "بے بنیاد" قرار دیا اور اس دورے کو معمول کے مطابق اور بیورو آف ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر کے قانونی مینڈیٹ کے مطابق قرار دیا۔
فلاویو بولسنارو نے ہفتے کے روز تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
امریکی منصوبے کی اطلاع سب سے پہلے واشنگٹن پوسٹ نے دی اور پھر رائٹرز نے اس کی تصدیق کی۔
ٹرمپ انتظامیہ لاطینی امریکہ میں سیاسی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کولمبیا کے منتخب صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کی حالیہ "مکمل اور کُلی طور پر توثیق" کے بعد ارجنٹائن کے صدر جاویئر میلی اور چلی کے صدر ہوزے انتونیو کاسٹ سمیت رہنماؤں کی حمایت کی۔
الیکشن کو بدنام کرنے کی نئی کوشش
سابق فوجی کپتان اور انتہائی دائیں بازو کے شعلہ بیاں مقرر جائر بولسونارو نے 2022 کے انتخابات سے قبل برازیل کے انتخابی نظام پر اعتماد کو کمزور کرنے کی بار بار کوشش کی جو امریکہ میں ٹرمپ کے استعمال کردہ حربوں کی باز گشت ہے۔
اس وقت سابق صدر جو بائیڈن کے ماتحت امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر نے بولسونارو انتظامیہ سے کہا تھا کہ وہ برازیل کے ووٹنگ سسٹم پر شکوک پیدا کرنا بند کریں۔
اس کے باوجود 2022 کے ووٹ سے قبل چند مہینوں میں بولسونارو نے غیر ملکی سفارت کاروں کو بلا کر غیر مصدقہ الزامات پیش کیے کہ برازیل کا الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتا تھا۔
ان کی مہم کا الٹا ردِ عمل ہوا۔ انتخابات کی نگرانی کرنے والی برازیل کی اعلیٰ انتخابی عدالت نے بعد میں فیصلہ سنایا کہ بولسونارو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور انہیں 2030 تک عوامی عہدہ حاصل کرنے سے روک دیا۔
بولسونارو کو بعد میں انتخابی نتائج کو الٹنے اور اقتدار میں رہنے کی سازش کرنے پر 27 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ گھر میں نظربند سزا کاٹ رہے ہیں۔
اب فلاویو بولسونارو نے ملک کے انتخابی نظام پر دوبارہ شکوک پیدا کر دیے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیل رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے درجنوں سفارت کاروں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر نے غیر ملکی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ برازیل کے انتخابات کی نگرانی کے لیے مبصرین بھیجیں۔
اسی تقریب میں جونیئر بولسونارو نے دعویٰ کیا کہ برازیل کی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں سمارٹ میٹک نے تیار کی تھیں۔ اس کمپنی کو امریکی حکام نے وینزویلا میں انتخابی ہیراپھیری کے الزامات سے منسلک کیا ہے۔
سمارٹ میٹک اور برازیل کی انتخابی عدالت دونوں نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی نے برازیل کی کوئی ووٹنگ مشین فراہم نہیں کی۔
سینیٹر نے تقریب میں اور ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے "برازیل کے ووٹنگ سسٹم کی سالمیت" پر سوال نہیں اٹھایا۔