المدمرة الأميركية يو إس إس دونالد كوك تبحر في بحر العرب برفقة مروحية MH-60S سي هوك وسط عمليات الحصار البحري على إيران - صورة نشرتها سنتكوم
ایران کا محاصرہ بدستور برقرار ہے، بحرِ عرب میں ایک آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کی: سینٹکام
امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک اس نے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جو مبینہ طور پر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، دو جہازوں کی نقل و حرکت روک دی کیونکہ انہوں نے احکامات پر عمل نہیں کیا، جبکہ دو مزید جہازوں پر سوار ہو کر مکمل تعمیل کو یقینی بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق ہفتے کے روز امریکی افواج نے بحیرۂ عرب میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ''ایم/ٹی چارمینار (M/T Charminar)'' پر چڑھ کر اس کی جانچ پڑتال کی۔
بیان میں کہا گیا کہ تصدیقی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ٹینکر نے اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ 24 جولائی کو امریکی مرکزی کمان نے خلیجِ عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ''ایم/ٹی لاوین (M/T Lavine)'' کی نقل و حرکت روک دی، کیونکہ اس کے عملے نے مبینہ طور پر کئی بار ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی اور بار بار دی جانے والی تنبیہات کو نظر انداز کیا۔ سینٹکام کے مطابق یہ جہاز اب ایران کی جانب نہیں جا رہا۔
سینٹکام نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ امریکی افواج اعلیٰ ترین سطح کی چوکسی، مکمل توجہ اور بھرپور جنگی تیاری کی حالت میں موجود ہیں۔
امریکہ نے 14 جولائی کو ایران پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی، جس کی وجہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو قرار دیا گیا۔
آبنائے ہرمز اب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں ایک اہم اسٹریٹجک حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران نے اس آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا اور اب وہ اس میں جہاز رانی کی نقل و حرکت پر کنٹرول برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔
حال ہی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے متعدد آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا ہے۔
اس کے جواب میں امریکہ نے اس اہم بحری راستے میں ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندی کے ردعمل میں ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔